Tariq Ali interview in Nasta’leeq

سرمایہ داری نظام سخت بحران میں ہے‘ افسوس ! اس کا متبادل پیدا نہیں ہوسکا

محمود الحسن  اتوار 31 مارچ 2013

(1)

عالمی شہرت یافتہ دانشور اور ادیب طارق علی سے مکالمہ۔ فوٹو: فائل

ہر لفظ کی حرمت ہوتی ہے،اس لیے کسی فلسفی نے ان کے غلط استعمال کو گناہ کبیرہ بتایاہے۔

ہمارے ہاں یہ گناہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے اور بہت سے لفظ بے وقر ہوتے جارہے ہیں،ایسا ہی ایک بیچارالفظ دانشور ہے،جس کی خوب مٹی پلید ہورہی ہے اور میڈیا کی برکت سے ہرایسے لال بجھکڑ کے لیے اس لفظ کو بے تامل برتا جاتاہے ، جو اگرگفتارکے جوہر دکھا رہا ہوتب بھی اور اگر خامہ فرساہو تب بھی، اس کی مبینہ علمیت اورثابت شدہ تعصب صاف عیاں ہورہا ہوتا ہے ۔دانشورکیا ہوتا ہے اور معاشرے میں اس کا کردار کیا ہوتا ہے، اس بارے میں ایڈورڈ سعید نے بڑی لمبی چوڑی بحث کی ہے ،جس میں سے دو نکات بہت اہم ہیں، ایک تو وہ کہتے ہیں کہ حقیقی دانشور طاقت اور اقتدار کے مراکز سے دور رہتا ہے، دوسرے وہ فکری اعتبار سے آزاد ہوتا ہے۔

ایڈورڈ سعیدنے اپنے ایک خطبے میں کہا تھا ’’ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آزادی بذات خودکوئی وصف ہے۔کیوں کہ متعدد بارآپ شاید غلطی پر ہوںلیکن اگر آپ آزاد نہیں تو آپ سے غلطی بھی سرزد نہیں ہوسکتی۔‘‘ ایڈورڈ سعید نے دانشور کے لیے جو کڑا معیار مقرر کررکھا ہے،اس پربہ تمام وکمال ان کے دوست طارق علی پورے اترتے ہیں، جو اسٹریو ٹائپ کو رداورظالم کو ڈنکے کی چوٹ للکار سکتے ہیں۔ وہ دانشوروں اور ادیبوں کی اس محدود اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں، جو قلم کے ساتھ ساتھ عملی جدوجہد کے ذریعے بھی بھرپوراحتجاج ریکار ڈ کراتی ہے۔ طارق علی کی فکرمیں پھیلائو اور تنوع بہت ہے ۔وہ امریکی پالیسیوں کو شدید ہدفِ تنقید بناسکتے ہیں۔ عراق پرحملے کی وکالت پرٹونی بلیئر کی ایسی تیسی کرسکتے ہیں۔

اہل عراق اور افغانیوں پر ہونے والے ظلم کا درد انھیں محسوس ہوتا ہے۔نائن الیون کی آڑ میںچیچن مسلمانوں پر ستم ڈھانے والے پیوٹن کی خبر وہ لیتے ہیں۔اور تو اورکشمیریوں سے ہونے والی زیادتی پر بھی بات کرتے ہیں ، اور حیرت اس بات پر ہے کہ ان کا سیکولرازم بھی خطرے میں نہیں پڑتا۔مغربی میڈیا کی منافقت کا پردہ بھی چاک کرتے رہتے ہیں۔وہ یہ سب اس لیے کر گزرتے ہیں،کہ ان کا دل مظلوموں کے واسطے دھڑکتا ہے۔بات جو دل میں ہو وہی ان کی زبان پر ہوتی ہے۔حالیہ دنوں میں ہونے والے لاہور لٹریچر فیسٹیول کی تقریب کو ہی لیجیے۔

وہ جس پینل کاحصہ تھے، اس میں شامل اراکین سے جب پوچھا گیا کہ آیندہ الیکشن میں وہ کس کو ووٹ دینا پسند کریں گے تو اس سوال کو اور کسی نے تو قابل اعتنا نہیں جانا مگر طارق علی نے واشگاف لفظوں میں عمران خان کو ووٹ دینے کی بات کردی۔ طارق علی نے فیسٹیول میںجو گفتگو کی، اس میںان کا عمران خان کے حق میں بولناسب سے زیادہ زیر بحث رہا ۔ان سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو ہم نے پوچھا ’’ آخر آپ کس بنیاد پر عمران کو ووٹ دینے کی بات کرتے ہیں؟‘‘اس سوال پر ان کا جواب تھا’’عمران اگر اقتدار میں آگیایا اس نے اتنے ووٹ حاصل کرلیے کہ اس کی جماعت اپوزیشن میں آگئی تو اس سے نوجوان طبقے کو کچھ فائدہ ہوگا اور وہ سوچیں گے ، ہم بھی اٹھ سکتے ہیں۔

پی پی پی اور ن لیگ کا جو پاورہے اگر یہ ٹوٹ جائے تو اچھی بات ہے، اس سے سیاسی حوالے سے کچھ spaceپیدا ہوگی۔‘‘ ہمارا اگلا سوال تھا’’عمران خان کی مخالف سیاسی جماعتیں اور بعض لبرل سوچ رکھنے والے افراد مثلاًعاصمہ جہانگیر کا کہناہے کہ ان کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے؟ ’’اسٹیبلشمنٹ کے آدمی تو آصف علی زرداری ہیں اور میرے خیال میں وہ اس سے بہت خوش ہے۔عمران تو ابھی پاور میں نہیں آیا۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے۔عمران کواسٹیبلشمنٹ کا آدمی کہنے والے زرداری کے خلاف بات نہیں کرتے۔اس کے ساتھ، بہت سے انسانی حقوق والے تصویریں بھی کھنچواتے ہیں ، ملتے بھی ہیں۔ باہر جاکر اس کی تعریف بھی کرتے ہیں۔زرداری سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی کون ہوسکتا ہے۔‘‘

ہم نے پوچھا: ’’لیکن عمران کے اردگرد کچھ ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کا اسٹیبلشمنٹ سے تعلق کسی سے چھپا نہیں ؟‘‘ اس سوال پر طارق علی بولے ’’عمران کی ہر بات سے مجھے تھوڑی اتفاق ہے‘ نہ ہی وہ میری ہر بات سے اتفاق کرتا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگر جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ پی پی پی اور ن لیگ میں سے زیادہ پیسے کون بناتا ہے تو ایسی جمہوریت کیسے رہ سکتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم ، صحت اور رہایش کے مسئلے حل نہ ہوئے توحالات خراب ہی رہیں گے۔لوگ کہتے ہیں کہ مدرسوں میں بڑی غلط چیزیں سکھائی جاتی ہیں، مثلاً شیعوں کو کافر کہا جاتا ہے‘ جو بالکل غلط بات ہے۔

لیکن اس کا متبادل حل یہ ہے کہ ریاست کا تعلیمی نظام اگر مضبوط ہو تو لوگ اپنے بچوں کو مدرسوں میں نہیں بھیجیں گے۔آخر غریب کیوں بچوں کو مدرسے میں بھیجتے ہیں؟ اس لیے کہ متبادل نظام تعلیم نہیں۔ایسے اسکول ہیں، جو رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کاوجود نہیں۔کرپشن کینسر کی طرح معاشرے کو کھارہی ہے لیکن مسائل حل کرنے کے لیے کسی پارٹی میں عزم ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کی اس حکومت جیسی کرپٹ حکومت پاکستان میں کبھی نہیں آئی۔عمران یہ کہتا تو ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو ٹھیک کریں گے۔ درست ہے ‘اس کے پاس پورا پروگرام نہیں لیکن کچھ چیزیں بھی وہ کردے تو ملک آگے بڑھے گا۔عمران سے بہتر متبادل اس وقت مجھے کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔

میں نے لٹریچر فیسٹیول میں عمران کے حق میں بات کی تو ایک بڑے گورنمنٹ آفیشل جو پرانے واقف ہیں ، ان کا فون آیا کہ میں نے بڑی غلط بات کی ہے اور مجھے لیفٹ کی پارٹی کو سپورٹ کرنا چاہیے تھا۔میں نے کہا کہ لیفٹ پارٹی ہے کون؟چھوٹے چھوٹے گروپ ہیں۔ بنیاد ان کی ہے نہیں۔ ایک گروپ دو دوسرے گروپوں سے مل گیا اور ایک پارٹی بن گئی۔اچھی بات ہے کوشش کررہے ہیں لیکن ایک کے ساتھ صفر ملادیں تو ایک ہی رہتا ہے۔مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ گورنمنٹ کا بندہ یہ کہہ رہا ہے، یعنی عمران سے اتنا خوف ہے ان کو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پھر اچھی باتیں کررہا ہوگا۔‘‘ پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ناقد ، طارق علی کا بتانا تھا ’’اوباما پر میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بش کی پالیسیوں کو اس نے جاری رکھا ۔

صرف اکا دکا مسئلوں پر اتفاق نہیں۔بش نے کہا بھی ہے کہ اوباما اس کے کام کو آگے لے کر جارہا ہے۔اور یہ سچ ہے۔ پاکستان میں بھی یہی حال ہے۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں فرق نہیں۔دونوں ایک جیسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ پارٹیاں نہیں دو مختلف قبیلے ہیں، یا جیسے کرکٹ کلب ہوتے ہیں، میں اس کلب کو پسند کرتا ہوں، اور دوسرا کسی اور کرکٹ کلب کو پسند کرتا ہے۔یعنی عادت اور پسند کا معاملہ ہے، اصول اور آئیڈیولوجی کی بنیاد پران جماعتوں کی حمایت کوئی نہیں کرتا۔‘‘ نواز شریف کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کے تاثر کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’’ آپ اقتدار میں نہ ہوں تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باتیں کرنا آسان ہوتا ہے ،اقتدار میں آکر آپ ان کے بغیر نہیں چل سکتے۔

فوج کے بغیر خارجہ پالیسی کون بناسکتا ہے؟’’اس پر ہم نے پوچھا ’’نواز شریف نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشش تو کی تھی اور آپ نے خود کہہ رکھا ہے کہ 1999ء میں ان کی حکومت ختم کرنے کی وجہ ان کا یہی اقدام بنا ؟‘‘جواب آیا ’’بھارت سے دوستی کی پالیسی نواز شریف کا اچھا فیصلہ تھا۔اسے کچھ سمجھ تو ہے، کیوں کہ بزنس مین ہے اور بزنس مین ہوشیار ہوتا ہے، اس کو پتا ہے، ہمارے لیے سب سے بڑی مارکیٹ انڈیا ہے، اس لیے انھوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہے۔لیکن انھیں فوج کی تائید حاصل نہیں تھی اس لیے کارگل کی جنگ شروع کی گئی۔ فوج کو کوئی جماعت قابو میں نہیں رکھ سکتی، بھٹو کو یہ غلط فہمی ہوئی تھی ، جس کا نتیجہ انھوں نے دیکھ لیا۔بے نظیر جس زمانے میں آکسفرڈ میں تھیں، انھوں نے مجھے بڑے یقین سے کہا تھا کہ پاکستان میں فوجی بغاوت کا امکان نہیں، کیوں کہ ضیاء الحق ان کی جیب میں ہے۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ پاکستان میں جرنیل کبھی کسی سویلین کی جیب نہیں ہوتا۔ ‘‘

٭ ’’بھٹو جب جیل میں تھے اس وقت بھی زیادہ ترلوگوں کا یہی خیال تھا کہ انھیں پھانسی نہیں ہوگی اور آپ جب وہ ابھی اقتدار میں تھے، اس وقت مارشل لا اور ان کے فوج کے ہاتھوں مارے جانے کی پیش گوئی کررہے تھے ، جو بعدازاں درست ثابت ہوتی ہے۔اس تجزیے کی بنیاد کیا تھی ؟‘‘

’’ایک بات تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ سے پاکستانی سیاست فالو کررہا تھا۔دوسرے سیاسی Instinctبھی ہوتی ہے۔مجھے شک تھا کہ اگر فوجی بغاوت ہوئی تو بھٹو کو ماردیں گے۔نیوکلیئرکے معاملے پر کسنجرنے بھٹوکو عبرت ناک مثال بنادینے کی دھمکی دی تھی تو ایسا فوج کے علاوہ اور کون کرسکتا تھا۔یقینی طور پرامریکیوں کی آشیرباد سے بھٹو کوپھانسی دی گئی۔امریکی بھٹوکو Un Predictable ہونے کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے۔‘‘

٭ ’’کیا بے نظیر بھی باپ کی طرح ان Un Predictable تھی؟‘‘

’’ہاں!لیکن بھٹو کا معاملہ مختلف تھا۔بھٹو کے ساتھ عوامی تحریک بہت بڑی تھی، اسی سے انھوں نے پارٹی کو بنایا اور اقتدار حاصل کیا۔بھٹو کی مقبولیت سے امریکا اور دوسرے ممالک بھی فکرمند تھے۔لیکن وہ کتنا آگے جائیں گے، اس کا انھیں دو برس میں پتا چل گیا تھا ، کہ ان کے ہاں باتیں زیادہ اور کام کم ہے لیکن تب بھی وہ نیوکلیئر پروگرام کے معاملے پر ان سے ناراض ہوگئے تھے۔پی این اے کو امریکا نے سپورٹ کیا۔ سعودی سفیرکو معاملات میں شریک کرکے بھٹو نے غلطی کی۔مولانا مودودی کے پاس وہ جاتے رہے۔مذہبی جماعتوں کے دبائو سے نروس ہوکران کے مطالبات مانے لیکن انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘

دنیا بھر کے انتخابی نظاموں پر نظر رکھنے والے طارق علی پاکستان کے لیے متناسب نمائندگی کے طریقہ انتخاب کو بہترجانتے ہیں۔ان کے خیال میں ’’ متناسب نمائندگی اگر آجائے تو ملک زیادہ جمہوری ہو جائے گا۔متناسب نمائندگی کے مخالفین کہتے ہیں کہ اگر یہ نظام آگیا تو جماعت اسلامی کے اتنے نمائندے ہوں گے اور فلاں مذہبی تنظیم کے اتنے نمائندے۔اگر یہی سوچنا ہے تو جمہوریت کو بھول جائیں۔برطانیہ جہاں سے first-past-the-post کا نظام آیا ہے ادھر بھی مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئرپاپولر ووٹ کی اکثریت سے نہیں جیتے تھے ۔میرے خیال میں متناسب نمائندگی سے معاشرے کی زیادہ بہترشکل سامنے آئے گی۔اگرکسی رجعت پسند پارٹی کو زیادہ نمائندگی ملتی ہے تووہ اس کی مستحق ہے، اس سے عوام کی تربیت بھی ہوگی۔اگر آپ انھیں پیچھے رکھیں گے تو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ ہتھیار اٹھالیںاور انتہا پسندی کی طرف مائل ہوجائیں۔ملک میں اگررجعت پسند قوتیں ہیں تو آپ ان سے بھاگ نہیں سکتے۔ان سے بحث اور مکالمہ ضروری ہے۔میں ہمیشہ سے متناسب نمائندگی کا حامی ہوں۔‘‘

طارق علی سے ہم نے پوچھا: ’’ ایڈورڈسعید نے “Covering Islam”میں مغربی میڈیا کاکچا چٹھاکھولا ہے ، اور آپ کی کتاب Rough Music سے بھی پتاچلتا ہے کہ برطانیہ میں میڈیا نے کس شرمناک طریقے سے عراق پر حملے کے معاملے پرٹونی بلیئر کی حمایت کی،اس سے تو لگتا ہے کہ میڈیا کی آزادی فراڈ ہے؟‘‘

’’ فراڈ نہیں ہے لیکن میڈیا اپنی آزادی کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتا۔نیویارک ٹائمز اور گارجین میں اچھے مضامین بھی آجاتے ہیں۔ یورپ اور امریکا میں تمام اخبارات کا ایجنڈا ایک ہوتا ہے،حکومتیں جو چاہتی ہیں، ادھر چل پڑتے ہیں۔ حکومت اگرموقف اختیار کرے کہ کسی ملک پر حملہ کرنا ہے تو میڈیاکہنے لگتا ہے کہ ہاںیہ جنگ ضروری ہے، اس کے سوا گزارا نہیں ہے۔ میڈیا خاصا ابتری کا شکار ہوچکا ہے اوریہ سرمایہ داری نظام کی وجہ سے ہے۔‘‘

طارق علی کی ایڈورڈ سعید سے دوستی رہی ۔ ایڈورڈ سعید سے ان کی گفتگو کتابی صورت میں سامنے آئی تو اسے خاصی پذیرائی ملی۔ایڈورڈ سعید کی کتاب اورینٹل ازم کی موجودہ دور میں relevance اور ان کی دانشورانہ حیثیت کے بارے انھوں نے بتایا ’’میرے خیال میں ایڈورڈ سعید کی کتاب اورینٹل ازم میں اب زیادہ جان نہیں۔انھوں نے جب اس کتاب کو لکھا تو ان کا زیادہ زور تو اس پر تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے بارے میں مغرب میں کیا تصورات تھے، لیکن اس سے جو تھیوری بن گئی کہ سارا مغرب جو ہے مشرق کو تعصب سے دیکھتا ہے، وہ ٹھیک نہیں تھا۔لوگوں نے ان کی کتاب پڑھی اور پھر اپنی مرضی سے تخمینے لگائے،جس کو ایڈورڈ خود بھی پسند نہیں کرتے تھے۔

جن مشرقی ملکوں کی وہ بات کررہے تھے ،وہ کافی عرصے سے نوآبادیات نہیں رہے تھے، اس لیے سب کچھ تو آپ مغرب پر نہیں ڈال سکتے۔یہ بات درست ہے کہ یورپ کے سامراجی ملک یہ کہتے تھے، دیکھو! یہ معاشرے خراب تھے، دیکھو! یہ کیا کرتے تھے، ہم نے انھیں جاکر تہذیب یافتہ بنایا ، سامراج تو یہ کرتا ہے۔ اب بھی برنارڈ لیوس جیسے لوگ موجود ہیں، جو یہ سوچ چلاتے ہیں، لیکن ان کا مقصد بالکل سیاسی ہے۔ لیوس اور اس کے حامی لوگ اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، اور جو اس کی مخالفت کرے اسے گالیاں دیتے ہیں۔سعید کو وہ بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔

برنارڈ لیوس عرب ملکوں کو اسرائیلی عینک سے دیکھتا ہے۔ایڈورڈ سعید کا خیال تھا کہ ان کی سب سے اچھی کتاب ’’کلچر اور امپریل ازم‘‘ ہے۔ وہ مغربی ملکوں میں فلسطین کے اہم نمائندے تھے۔اوسلو معاہدہ ہواتو انھوں نے کہا کہ یہ بات نہیں چلے گی، اوسلو فلسطینیوں کی شکست ہے، اس وقت ایڈورڈ اور میں ہی تھے، جو اس طرح سوچ رہے تھے، باقی لوگ تو  معاہدے کے حق میں تھے۔مغرب میں فلسطینیوں کے نمائندے کی حیثیت سے وہ یاد رکھے جائیں گا۔ادبی نقاد کے طور پر ان کا کنٹری بیوشن ہے۔ ’’کلچر اینڈ امپیریل ازم‘‘ زندہ رہے گی۔ ایڈورڈ کے کام کی سیاسی اور ثقافتی دونوں طرح سے اہمیت ہے۔‘‘

نان فکشن کے ساتھ طارق علی کے فکشن نے بھی بڑی مقبولیت حاصل کی۔فکشن کی طرف وہ دیر سے متوجہ ہوئے ۔ایک زمانے میںوہ فکشن لکھنے میں اس قدر منہمک ہوئے کہ سوچ بیٹھے کہ اب وہ نان فکشن نہ لکھ پائیں گے مگراس معاملے میں گڑ بڑ یہ ہوئی کہ نائن الیون ہوگیا اور انھیں نان فکشن کی طرف دوبارہ پلٹنا پڑا۔اپنے ناولوں کے بارے میں مختصراً انھوں نے بتایا ’’ Shadows of the Pomegranate Tree لکھ کر میں نے سوچا تھا کہ صرف اسپین میں مسلم تہذیب کے بارے میںلکھوں گا اور پھر رک جائوں گا۔لیکن ایڈورڈ سعید نے کہا کہ یہ تو تم نے بہت اچھی چیز لکھی ہے،اسے جاری رہنا چاہیے اور رکو نہ اور اب ساری تاریخ لکھ ڈالو۔اس کے بعد ’’The Book of Saladin ‘‘میں صلاح الدین ایوبی اور صلیبی جنگوں کے بارے میں لکھا۔

اس ناول کا ترجمہ عبرانی میں بھی ہوا۔’’The Stone Woman‘‘عثمانیہ سلطنت پر ہے۔’’ Sultan in Palermo ‘‘سسلی کے پس منظر میں ہے،لوگوں کو پتا ہی نہیںتھا کہ سسلی میں مسلم کلچرکتنا پھیلا ہوا تھا۔ اور آخری ناول ’’Night of the Golden Butterfly ‘‘ لاہورسے شروع ہوتا ہے، لاہور کی چینی کمیونٹی سے ، جو تصوراتی ہے لیکن تاریخی تفصیلات بالکل ٹھیک ہیں۔ میں نے بتایا ہے کہ انیسویں صدی میں چین میں بہت بڑی شورش ہوئی اور مسلمانوں نے ایک بہت اچھا اسٹیٹ، جو بالکل سیکولرمسلم اسٹیٹ تھا، اسے قائم کیا، جس کو چینی فوج نے ختم کیا۔یہ کہانی اور کہیں نہیں چھپی ۔دو تین ماہ قبل ہندوستان گیا تو ادھر پنجابی کے لوگ ملے جنھوں نے مجھ سے انٹرویو کیا جو نیٹ پرموجود ہے۔انھوں نے مجھے کہاکہ وہ میرے ناولوں کا ترجمہ گورمکھی میں کرانا چاہتے ہیں ، میں نے انھیں بخوشی اجازت دے دی۔ ‘‘

٭ نان فکشن اور فکشن لکھنے میںکیا فرق محسوس کرتے ہیں ؟

نان فکشن کہیں بھی لکھی جاسکتی ہے۔فکشن جب لکھتاہوں تو کافی الگ تھلگ ہوجاتاہوں۔سمندر کے پاس کاٹیج لے لیتا ہوں یا Writers Retreat لے لی۔مہینہ دو مہینہ چھپا رہتا ہوں۔ فکشن آپ کے اندر سے ابھرتی ہے۔لکھتے ہوئے لاشعور سے بہت چیزیں اوپرآجاتی ہیں۔کئی کردارجنھیں آپ نے سوچا بھی نہیں ہوتا، لکھتے ہوئے وہ نکل آتے ہیں۔ ‘‘

٭ مثلاً ایسا کوئی کردار؟

’’ Shadows of the Pomegranate Tree‘‘ میں زندیق کے نام سے کردار ہے، جو متشکک مسلمان ہے۔اس کا مجھے خیال نہیں تھا کہ یہ ابھرے گا مگر وہ اتنا زیادہ ہوگیا کہ پھر اسے روکنا پڑا کہ یہ کردار تو سارا ناول لے جائے گا۔بہت سے لوگوں نے اس کردار کی تعریف کی ۔اور پوچھا کہ یہ تو بہت عمدہ کردار ہے، اسے آپ نے کب سوچا۔‘‘

طارق علی کے خیال میں، پاکستان میں لیفٹ ہمیشہ کمزور رہا،تقسیم سے بھی نقصان ہوا کہ تربیت یافتہ ہندو اور سکھ کیڈر یہاں سے چلے گئے۔انڈیا میںلیفٹ کمزور نہیں تھا لیکن انھوں نے انتخابی سیاست میں جاکر اپنی بدنامی کرائی۔سجاد ظہیرکے ادبی مقام کو تسلیم کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں، انھیں کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنانے کا فیصلہ صحیح ثابت نہیں ہوااور وہ منتظم کے طور پر کامیاب نہیں رہے۔ سجاد ظہیر سے ایک بار انھوں نے راولپنڈی سازش کیس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ جنرل اکبر نے یہ منصوبہ ایک کاک ٹیل پارٹی میں، جس میں فیض بھی شریک تھے ، پیش کیا۔اس پر انھوں نے پوچھاکہ اتنا اہم معاملہ اور آپ اسے کاک ٹیل پارٹی میں ڈسکس کررہے تھے؟سجاد ظہیر نے جواب دیا تو پھر کیا؟اس پر انھوں نے کہا کہ توپھریہ کہ نتیجہ آپ نے دیکھ لیا۔

انگریزی میں تحریر وتقریر میں مہارت رکھنے والے طارق علی اردو زبان میں بھی اپنا مافی الضمیربخوبی بیان کرتے ہیں لیکن پنجابی زیادہ سہولت سے بولتے ہیں۔کہتے ہیں ’’ ہمارے ہاں بیوروکریسی نے پنجابی کو بالکل کرش کر دیا اور پنجابیوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ ان کی زبان vulgarہے ، اس لیے پنجابی اپنے بچوں کو بھی پنجابی نہیں بولنے دیتے ۔پنجابی دیہات اور شہروں میں بولی جاتی ہے لیکن پھر بھی لوگوں کا خیال ہے اردو میں بات کرنا زیادہ مہذب ہے۔‘‘طارق علی کو اس بات پر افسوس ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے تقسیم کے وقت جان سے گزر جانے والوں کے لیے کوئی یادگار تعمیر نہیںکی۔

لاہور کے گلی کوچوں میں بچپن اور جوانی کے سنہرے دن گزارنے والے طارق علی سے ہم نے پوچھا ’’ شہرکو موجودہ حالت میں دیکھ کر کیسا محسوس کرتے ہیں۔’’ وہ لوگ جو بوڑھے ہوجاتے ہیں، سبھی اپنے شہر کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ اس لیے یہ کوئی اوریجنل خیال نہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ جب آپ شہر کے ساتھ بوڑھے ہوں تو پھر عجیب نہیں لگتا، لیکن اگر آپ شہر سے باہر نکل گئے اور دس پندرہ سال بعد پلٹے تو پھر آپ کہتے ہیں، یہ شہر کیسا ہوگیا ہے۔شہروں کی پوری دنیا میں یہی تاریخ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔چین میں اب بہت اچھا کررہے ہیں،کہ میڈیم سائز کے ٹائون بنارہے ہیں تاکہ بیجنگ اور شنگھائی پر دبائو کم ہو اور عام اور مڈل کلاس کے لوگ اس شہر کو آباد کریں۔شہر اگر بہت بڑے ہوجائیں تو سہولتوں کے اعتبار سے ان پر دبائو بڑھ جاتا ہے۔اس علاقے میں جب ہم آئے تو تین گھر تھے۔ دو میری پھوپھیوں کے اور ایک ہمارا۔ یہ 1956ء کی بات ہے۔اس سے قبل ہم قلعہ گجر سنگھ کے پاس نکلسن روڈ پر رہتے تھے۔‘‘

٭ پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں سرنگ کے دوسری طرف  روشنی کی کرن دکھائی دیتی ہے ؟

’’لٹریچر فیسٹیول میں نوجوانوں کو دیکھ کر متاثر ہوا اور مجھے لگا ان میں کچھ کرنے کی تڑپ ہے، اس لیے آگے بڑھ سکتے ہیں، اور نیاطبقہ پیدا ہوسکتا ہے۔اب تک تو ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائی والے پرانے لوگ ہی چل رہے ہیں۔نیا طبقہ آنے سے ممکن ہے حالات بہتر ہوں ، آخر یہ نوجوانوں کا ملک ہے، جہاں تیس فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے، اس لیے مایوس ہونے کی ضرورت ہے نہ امریکا کا ایجنٹ بننے کی ،آخر جنوبی امریکا والے اٹھے ہیں۔امید تب آئے گی جب عوام اٹھیںگے ۔ الیکشن کے نتیجے میں اگر نظام تعلیم اور صحت ٹھیک ہوگیا اور غریبوں کومکان مل گیا تو ان چیزوں کے آنے سے ماحول بدل جاتا ہے۔

اس وقت تو ہماری حالت بہت خراب ہے۔‘‘طارق علی کاعلمی وسیاسی اعتبار سے بڑے نامور لوگوں سے تعلق واسطہ رہا، لوگوں کو پسند انھوں نے ضرور کیا لیکن ان کا ہیرو کوئی نہیں رہا۔ بریخت کے اس قول پر ان کا یقین ہے کہ ’ قابل رحم ہے وہ قوم جس کو ہیروکی ضرورت ہوتی ہے۔‘جہد مسلسل پر یقین رکھنے والے طارق علی رجائیت پسند آدمی ہیں۔نظریاتی اعتبار سے وہ عمر بھر وفاداری بشرط استواری کے قائل رہے۔ان کے بقول ’’سوشلسٹ رہااور اب بھی ہوں۔ ساری عمرسامراج دشمنی کی ہے۔امید تھی مسائل جلد حل ہوجائیں گے لیکن امیدیں پوری نہیں ہوئیں،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مایوس ہوکر بیٹھ جائیں۔‘‘

امریکا کا اصل رشتہ بھارت سے ہے

افغانستان سے امریکی نکل گئے توان کی پاکستان میں دلچسپی ختم ہوجائے گی۔اس خطے میں ان کا زیادہ مفادانڈیا سے وابستہ ہے۔ امریکا اور انڈیا کے معاملات بڑے نزدیکی ہیں۔ایک تو وہ بڑی مارکیٹ ہے ، دوسرے امریکا ،چین کے مقابلے میں ہندوستان کو کھڑا کرنا چاہتاہے۔امریکی اپنے اس تعلق کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔کشمیر میں اتنا ظلم ہوتا ہے، پتا نہیں کتنے لوگ مارے گئے ہیں۔عورتیں ریپ ہوتی ہیں۔کشمیر بالکل ایک مقبوضہ ملک کی طرح ہے۔کشمیر سے متعلق مغربی میڈیا کتنی کوریج کرتا ہے؟ اب تو پاکستان میں بھی بہت کم کوریج ہوتی ہے۔تبت میں دوتین بدھسٹ مارے جائیں تو ساری دنیا کھڑی ہوجاتی ہے اور واویلا مچاتی ہے ،دیکھو! چینی کیا کررہے ہیں۔کشمیر میں مسلمان مارے جاتے ہیں، اس لیے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔امریکا کے جو حمایتی کالم نویس وغیرہ ہیں ، انھیں بھی فرق نہیں پڑتا۔کشمیریوں کے حق میں بات کرو تو کہیں گے یہ تو جہادیوں کے ساتھ ہے۔انڈیا میں بھی اسی طرح کے لوگ ہیں، ارون دھتی رائے کو چھوڑ کر کشمیریوں کی کوئی بات نہیں کرتا۔

پاکستان پر امریکی قبضے کے حامی دانشور

پاکستان میں کئی لبرل دانشور اور صحافی ہیں،جو امریکا کی حمایت کرتے ہیں، اور دل میں سوچتے ہیں کہ امریکا بڑھ کراس ملک پرقبضہ کرلے تووہ اس کے ساتھ تعاون کریں۔ان لوگوں کا خیال ہے وہ خود کچھ نہیں کرسکتے جب تک کوئی پاور باہر سے نہ آئے۔یہ کام عراق اور لیبیا میں بھی کچھ لوگ کرتے ہیں۔عرب دنیامیں بھی ایسے لوگ ہیں، یہ گلوبل فینومینا ہے۔

امریکا کی مذمت ، طالبان کی حمایت تھوڑی ہے

طالبان اور امریکا دونوں کو آپ ایک ساتھ برا کہہ سکتے ہیں۔میں نے اپنی کتاب’’ بنیاد پرستیوں کا تصادم‘‘ میں لکھا ہے کہ سامراج اور جہادی دہشت گردی ایک ہی فینومینا کی مختلف شکلیں ہیں۔تاریخ دیکھیں تو آپ کو پتاچلتاہے کہ یہ لوگ اٹھے کیسے۔سارے جہادی گروپ سوویت یونین کے ساتھ جنگ میں امریکا کے ساتھ تھے۔مغرب سے پیسا آیا اور آئی ایس آئی نے انھیں بنایا۔ان سب کی ریگن اور تھیچر کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔اب یہ ان سے کنٹرول نہیں ہورہے۔ہم تب بھی ان کے خلاف تھے اور اب بھی ہیں۔

لیکن ہم ساتھ میں امریکا کی بھی مذمت کرتے ہیں،کیونکہ وہ بھی بڑا مسئلہ ہے۔اگر آپ موازنہ کریں، جہادیوں کے جو چھوٹے چھوٹے گروپس کی کاروائیوں کا امریکا سے تو اس کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔اب عراق پرامریکا نے جو حملہ کیاہے، اس میں دس لاکھ عراقی مارے گئے۔ بیس لاکھ زخمی ہوئے ۔ لاکھوںیتیم ہوئے۔ پچیس لاکھ پناہ گزین ہیں ۔یہ سب کوئی جہادی گروپ تو کسی ملک میں نہیں کرسکتا۔دوسروں کو تو یہ لوگ انسان ہی نہیں سمجھتے۔ہم جہادیوں کو سپورٹ نہیں کرتے، ان کے خلاف ہمارا لکھا موجود ہے، لیکن یہ کہنا کہ امریکا کی مذمت کا مطلب جہادیوں کو سپورٹ کرنا ہے ، بددیانتی کی بات ہے۔

سامراجی پٹھوکو امن کا نوبیل انعام

مغرب میں بھی دانشور اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں‘ لوگ بدل جاتے ہیں۔ہر کسی کی اپنی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔کئی کی عادت ہوتی ہے بڑی پاور کے بغیران کی سوچ ٹھیک نہیں رہتی۔کئی لوگ ایسے تھے، جو تیس سال قبل سوویت یونین، چین اور کیوباکے بارے میں سوچتے تھے،سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد ایسا نہیں رہا اور جب چین کو سرمایہ دار بنایا گیا تو کئی دانشور مایوس ہوکر غیرمتحرک ہوگئے، اور کچھ نے سوچا کہ چلو اب دنیا میں ایک ہی پاور ہے تو اس کے ساتھ چلو۔اب مغرب میں ایسے لوگوں کا پورا ایک layer ہے۔

پھر دانشوروں کو امریکی انسٹیٹیوٹس سے کافی پیسا ملتا ہے، 2010  ء میں چین سے تعلق رکھنے والے Liu Xiaoboکو امن کا نوبیل پرائز دیا گیاہے ، وہ امریکا کے پے رول پر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چین کا المیہ یہ ہے کہ اس پر پچاس ساٹھ سال کسی سامراجی طاقت نے حکومت نہیں کی وگرنہ اس کی حالت بہتر ہوجاتی تو ایسے نظریات رکھنے والے کو نوبیل پرائز دے دیا جاتا ہے۔چین میں ان کو جیل میں ڈالا گیا تو ہم نے اس کی مخالفت کی اور میں نے ان کو رہا کرنے کے لیے دستخط بھی کئے۔ لیکن یہ بالکل الگ معاملہ ہے، اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ آپ انھیں نوبیل پرائز دے دیں۔

ترکی میں کیا ہورہا ہے؟

ترکی میں کیا ہورہا ہے،لوگ اوپر اوپر سے دیکھتے ہیں لیکن اصل میں نیچے کیا ہورہا ہے، اسے نہیں دیکھتے۔میں ترکی جاتا رہتا ہوں، اس لیے جانتا ہوں ادھر اصل میں کیا ہورہا ہے۔میں نے ترکی کے اسلامسٹوں کے بارے میں لکھا بھی ہے کہ نیٹو فیورٹ اسلامسٹ۔امریکیوں کے ساتھ ان کے سمجھوتے ہوتے ہیں۔وہ انھیں پسند کرتے ہیں۔میں تو انھیں نیٹو کا ایسٹرن فلینک کہتا ہوں۔اسرائیل کے خلاف بھی کیا بات کی۔ٹھیک ہے ، ایک بین الاقوامی فورم میں آپ نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔لیکن آپ کا عمل کیا ہے۔آپ کے اسرائیل سے تعلقات ہیں۔اس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں ہوتی ہیں ۔غزہ میں جنگ ہوئی تو لاطینی امریکا کے دو ممالک وینزویلا اور بولیویا نے اپنے سفیروں کو بلا کر اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرلیے، لیکن کسی عرب ملک نے ایسا نہیں کیا، ترکی نے بھی ایسا نہیں کیا، یہ کافی revealing بات ہے۔

اوپر اوپر سے آپ جو بھی کہتے رہیں،اصل بات تو اس سے determine ہوتی ہے کہ آپ کا عمل کیا ہے۔دوسرے جو معاشی نظام ترکی میں قائم کیا گیا ہے، وہ نیولبرل اکنامک سسٹم ہے۔نجکاری ہورہی ہے۔کرپشن بہت بڑھ گئی ہے۔وہاں کے مسئلے ہماری طرح سے ہیں لیکن ان کی لیڈر شپ تھوڑی سی بہتر اور زیادہ ہوشیار ہے۔ترکی میں کاروباری طبقے کے حکومت کے ساتھ ویسے ہی تعلقات ہیں جیسے یہاں زرداری حکومت کے ساتھ ہیں۔کردوں کا مسئلہ ہے۔ان کے دانشوروں اور صحافیوں کو قید میں ڈالا ہے۔اب کوشش ہورہی ہے کہ ان کے ساتھ بات ہو۔وہ الگ ہونا بھی نہیں چاہتے صرف خود مختاری چاہتے ہیں۔ترکی کے بارے میں یہ کہنا کہ ادھر بہت بڑی تبدیلی آگئی ہے ،پراپیگنڈا اورspinہے۔

طارق علی نے21اکتوبر1943ء کو لاہور میں آنکھ کھولی۔ ان کا تعلق بڑے معتبرسیاسی و علمی خانوادے سے ہے۔ان کے ناناسرسکندر حیات تقسیم سے قبل پنجاب کے وزیراعظم تھے۔ماموں سردار شوکت حیات بھی معروف سیاستدان تھے۔ان کے والد مظہر علی خان نے نواب زادہ ہونے کے باوجود اپنے لیے بائیں بازو کی سیاست کاراستہ چنا ۔قیام پاکستان کے بعد انگریزی صحافت میں معتبر مقام پایا۔1959ء میں حکومتی قبضے سے قبل کے آٹھ برس پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر رہے۔ 17برس انگریزی جریدہ’’ ویوپوائنٹ‘‘ ان کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔طارق علی کی والدہ معروف سیاسی کارکن طاہرہ مظہر علی خان جوانی میں بائیں بازو کے نظریات سے متاثر ہوئیں اور پھران کی تمام عمراس فکر کی ترویج میں گزری۔

چھوٹے بھائی ماہرعلی بین الاقوامی امور پرانگریزی میں لکھتے ہیں۔طارق علی کے ماںباپ نے پرآسائش زندگی تج کر کٹھن راہ کا انتخاب کیا ، یہ باغیانہ خو بیٹے میں بھی منتقل ہوئی اور تمام عمر عام آدمی کے حق میں آواز اٹھانا ان کا شیوہ رہا۔ طارق علی نے ابتدائی تعلیم سینٹ انتھونی اسکول سے حاصل کی۔گورنمنٹ کالج لاہور کے ممتاز طالب علموں میں شمار ہوئے۔بہترین مقرر کے طور پر ان کا شہرہ رہا۔ممتازصحافی خالد احمد جو اس زمانے میںجی سی کے طالب علم تھے،انھوں نے طارق علی کی شعلہ بیانی دیکھی اور ادھر ایک تقریب میں مظہر علی خان کی طلاقت لسانی کے جوہربھی ملاحظہ کئے ، ان کے بقول ’’میں کبھی فیصلہ نہیں کرسکا کہ ان دونوں میں بہتر مقرر کون تھا۔ تاہم میں نے ان دونوں سے بہتر مقررین کبھی نہیں سنے۔‘‘

ایوب آمریت کے خلاف جدوجہد کے باعث وہ اہل اقتدار کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹکنے لگے تو لاحق خطرات کے پیش نظر والدین نے بیٹے کو تعلیم کی غرض سے انگلینڈ بھجوادیا ۔ والد کی خواہش تھی، وہ قانون کی تعلیم حاصل کریں لیکن ان کا جی ادھر مائل نہیں ہوا اور انھوں نے آکسفرڈمیں سیاسیات، فلسفہ اور معاشیات کے مضامین پڑھے۔وہ آکسفرڈ یونین کے صدر بننے والے پہلے پاکستانی تھے۔اس دورمیں ان کی ملاقات میلکم ایکس سے ہوئی ، اوراس جانکاری نے انھیں بہت سرشار کیا کہ وہ عظیم آدمی بھی ویت نام اور کیوبا سے متاثرہے۔ویت نام جنگ کے خلاف مظاہروں میں وہ پیش پیش تھے۔برٹرینڈر رسل فائونڈیشن کے رکن رہے۔ لیون ٹراٹسکی کی فکر نے اوائل جوانی میں اس وقت انھیں اپنی طرف کھینچا جب انھوں نے Deutscher کی لکھی ٹراٹسکی کی لازوال سوانح عمری کا مطالعہ کیا۔

پھرٹراٹسکی کی ’’میری زندگی‘‘پڑھی تو وہ انھیں فکشن کی طرح سے دلچسپ لگی۔اس رو میں انکی دوسری بہت سی تحریروں سے ذہن منور کیا۔ساٹھ اورستر کی دھائی کے اس ممتاز ترین ٹراٹسکائیٹ کو ٹراٹسکی کی شخصیت، فکر اور طرز تحریر تینوں نے بہت متاثر کیا۔وہ ان اعتبارات سے اب بھی ان کے قدر دان ہیں لیکن وہ ان کے اندھے مقلد کل بھی نہیں تھے اور آج بھی نہیں۔مارکس ، لینن ، ٹراٹسکی اور گرامچی کو وہ عظیم مفکر قرار دیتے ہیں ، لیکن انھیں خدا کا درجہ دینے کے ناقد ہیں۔ ان کے خیال میں،کیمونسٹ اور ٹراٹسکائیٹ تحریکوں کے ساتھ یہ خرابی رہی ہے کہ وہ بحث کو مارکس نے یہ کہا اور ٹراٹسکی نے وہ کہا کی بنیاد پرفیصلہ کن بنانا چاہتے ، ان کے نزدیک یہ طریقہ مذہبی مناظرہ بازی سے ملتا جلتاہے جبکہ وہ مفکرین اہل مذہب میں سے تونہ تھے۔

زندگی بھر طارق علی کی شہرت کا منطقہ بدلتارہا۔کبھی وہ ایکٹوسٹ کے طور پر دنیا بھر میںمانے گئے تو کبھی سیاست و تاریخ کے بارے میں ان کی کتب کا دنیا بھر میں چرچا رہا۔فکشن کی طرف آئے تو ادھر بھی خوب پذیرائی ہوئی۔ فلم میکر اور ڈراما نویس کے طور پر خود کو منوایا۔سالہا سال سے نیو لیفٹ ریویو سے وابستہ طارق علی کے مضامین، گارجین، کائونٹر پنچ اور لندن بکس آف ریویو میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔دنیابھر میں انھیں مختلف موضوعات پر لیکچر دینے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ظلم کے خلاف بڑے سیاسی مظاہروں میں وہ اب بھی دل وجان سے شریک ہوتے ہیں۔

ایڈورڈ سعید سمیت دنیا کے کئی نامور دانشوروں سے ان کی دوستی رہی ۔سیاسی رہنمائوں سے ان کے تعلقات رہے اور وہ ان سے مشوروں کے طالب بھی رہے لیکن انھوں نے اپنی آزاد دانشور کی حیثیت کو کبھی دائو پر نہیں لگنے دیا۔ جوانی میںذوالفقار علی بھٹو کے اصرار پر بھی وہ پیپلز پارٹی کے بنیادی رکن نہ بنے۔مولانا بھاشانی کی طرف سے سیاسی سیکرٹری بننے کی پیشکش شکریے کے ساتھ مسترد کی۔ پاکستان سے باہرکئی عالمی رہنمائوں سے ان کی دوستی رہی، جن میں ہوگوچاویزنمایاں تر ہیں۔کیوبا کے فیڈل کاسترو،وینزویلا کے ہوگو چاویزاور بولیویا کے رہنما ایوموریلز کو دنیا بھر کے لیے امید کا محور قرار دینے والے طارق علی اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ لندن میں قیام پذیر ہیں۔

’’ابتدائی جھٹکے سے سنبھلتے ہی مجھے اس بات کا یقین ہوچلا تھاکہ حکومت الٹنے کی کوشش ناکامی سے دوچارہوگی۔دو ایسی وجہیں موجود تھیں ، جنھوں نے میرے حوصلے کو بلند رکھا۔پہلی وجہ یہ تھی کہ ملک کے عوام کی حمایت ہمیں بدستور حاصل تھی۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک روزمیں صدارتی محل میں فارغ بیٹھے بیٹھے شدید اکتاہٹ محسوس کررہا تھا۔میں نے فیصلہ کیا کہ میں شہر کے مضافاتی پہاڑی علاقے کی طرف نکل جائوںاور وہاں لوگوں سے بات چیت کروں اور کچھ تازہ ہوامیرے پھیپڑوں میں جائے لہٰذا میں اپنے دو ساتھیوں اور ایک محافظ کے ساتھ کار پر روانہ ہوگیا، لوگوں کے جذبے نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ایک عورت میرے پاس آئی اور بولی ’’چاویز میرے ساتھ آئو میںتمھیں کچھ دکھانا چاہتی ہوں۔‘‘

میں اس خاتون کے پیچھے پیچھے اس کے چھوٹے سے گھر میں داخل ہوگیا، گھر کے ایک کمرے میںاس خاتون کا شوہر اور بچے سوپ کے منتظر بیٹھے تھے جو اس خاتون نے چولہے پر چڑھا رکھا تھا۔وہ عورت کہنے لگی’’دیکھو میں سوپ پکانے کے لیے لکڑی کے طور پر کیا جلارہی ہوں، یہ ہمارے پلنگ کا سرہانے والاحصہ ہے۔کل ہم پلنگ کی ٹانگیں جلا کر کھانا پکالیں گے۔،اس کے بعد میز، پھر کرسیاں اور پھر گھر کے دروازے جلا کر کام چلالیں گے۔

ہم کسی نہ کسی طورخود کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن تم ہمت نہ ہارنا، اپنے حق سے ہرگز دستبردار نہ ہونا۔جب میں واپس لوٹنے لگاتوبچے ٹولیوں کی صورت میںمیری طرف آئے اور ہاتھ ملاتے رہے۔وہ مجھ سے کہہ رہے تھے:’’ہم بیئر کے بغیر گزارا کرلیں گے لیکن تم یہ بات پکی کروکہ انھیں مزا چکھادو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ بہت بھرے بیٹھے تھے لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ اس صورت حال کا ذمہ دارکون ہے اور اسی طرح کی اطلاعات ہمیں پورے ملک سے موصول ہورہی تھیں۔متوسط طبقے نے ہڑتالوں کے باعث خود کو بہت نقصان پہنچا لیا تھا۔‘‘(ہوگو چاویز کے طارق علی سے یادگار مکالمے سے ایک اقتباس)

جنوبی امریکا دنیا میں تبدیلی کا نشان

چین اور روس جو ہیں وہ امریکا کی قوت محدودکرسکتے ہیں۔امریکاکاسوفٹ پاورپوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔اس کا کلچر، ٹی وی اور فلم ۔یہ سب آسانی سے واپس نہیںہوگا۔تبھی ہوسکتا ہے، جب اس سے بہترچیزیں آپ کریں۔جنوبی امریکا جیسی تبدیلی اور جگہوں پربھی آئے۔ایشیا میں کہیں کچھ نہیں ہوا۔میںجنوبی امریکا بار باراس لیے گیاکہ چلو ادھر کچھ تو ہورہا ہے۔اس اسپرنگ کا اچھا اثر ہوا ہے۔غریبوںکے لیے بہت کچھ کیا۔ٹھیک ہے سب کچھ نہیں ہوا لیکن امریکا اور مغربی ممالک کی دشمنی کے باوجود انھوں نے اپنے عوام کے لیے کرکے دکھایا ہے اور مثال قائم کی ہے۔

عرب ممالک بھی اگر اپنی نظرجنوبی امریکا پر رکھتے تو آگے بڑھ سکتے تھے لیکن ان کی نظرتو امریکا پر ہوتی ہے۔مستقبل میں فوجی اعتبار سے تو امریکا کا توڑ نہیں لیکن سیاسی طور پر جس طرح جنوبی امریکا والوں نے اپنی آزادی حاصل کی ہے تو اس طرح کی چیزیں ہوسکتی ہے۔امریکا فوجی طور پر دنیا کو برباد کرسکتا ہے لیکن اگر عوامی حکومت آجائے توتو امریکا کا اسے ختم کرنا اتنا بھی آسان نہیں۔ہوگو چاویزکی حکومت ختم کرنے کے لیے بہت زور لگایا گیا لیکن ایسا ہونہیں سکا کیوں کہ عوام اس کے ساتھ تھے۔دوسرے یہ ہے کہ خود امریکا کے اندر اس کا سامراجی کرداد ختم کرنے کی تحریک چلے۔

امریکا میں ایسے حقیقت پسند پالٹیکل سائنٹسٹ ہیں جن کا خیال ہے کہ اگر ہم نے خود کو نہ روکا تو ہمارا رویہ ہمیںختم کردے گا۔ امریکی سامراج یورپین سامراج سے اس لیے مختلف ہے کہ یورپین سامراج نے دنیا کو تقسیم کیا تھا۔امریکا کو یہ ضرورت پیش نہیں آئی۔عراق اور افغانستان میں وہ پھنسے ہیں لیکن وہ خود کو براہ راست قبضے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور زیادہ تروہ دنیا میں اس طرح سے حکومت کرنا چاہتے ہیں، جیسے 1950ء سے اب تک پاکستان میں کی ہے، کہ حکومتیں ان کا کام کریں اور انھیں فوج بھیجنے کی ضرورت ہی نہ ہو جب تک ناگزیر نہ ہوجائے۔سعودی عرب میںامریکا کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔

گلف میں بھی ایسا ہے۔مبارک کے دور میں بھی مصر بھی کٹھ پتلی ملک تھا اور اب مرسی کے نیچے بھی میرے خیال میں زیادہ فرق نہیں ہوگاچہ جائیکہ کہ مصر کے عوام اٹھیں اور کہیں کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ختم کرو جس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔جس ملک میں فوج کا زور ہووہ عام طور پر فوج سے بات کرتے ہیںکہ یہ نہ ہونے دینا اور وہ نہ ہونے دینا۔ سیاست دانوں کو وہ زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

یونانی سیاستدان کے منہ سے چاویز کی تعریف سے یورپ کا گھبرانا

سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد لیفٹ نے متبادل پالیسی نہیں بنائی۔اٹلی جہاں دنیا کی سب سے بڑی کیمیونسٹ پارٹی ہوتی تھی، ادھر بھی اب کنزرویٹو پارٹی ہے، جو سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ہے۔سرمایہ داری نظام سخت بحران میں ہے لیکن افسوس اس کے باوجود اس کا متبادل نہیں پیدا ہوسکا۔یہ متبادل تب آئے گا، جب نیچے سے کوئی نئی لہر اٹھے گی۔یونان میں کچھ اٹھی تو سب گھبرا گئے۔یورپی ملکوں نے یونان کا گھیرا کرلیا۔SYRIZAترقی پسند پارٹی تھی، اس کے لیڈر Alexis Tsipras سے پوچھا گیا کہ آپ دنیا میں کس کو پسند کرتے ہیں تو اس نے کہا کہ وینزویلا کے رہنما ہوگو چاویزکو۔

اس سے سارا یورپ گھبرا گیا کہ اگر جنوبی امریکا کی یہ بیماری اور پھیلی تو کیا ہوگا۔فرانس کے صدر اور جرمنی کے چانسلر نے الیکشن میں مداخلت کی اور کہا کہ اگر اس پارٹی کو منتخب کیا گیا تو یونان ختم ہوجائے گا۔ ہم یہ کردیں گے، یورو سے نکال دیں گے۔اس طرح یونان میں تبدیلی کا راستہ روکا گیا۔اس سے یونان کا کچھ فائدہ نہیں ہوا اور ادھر حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں۔یورپ میں معاشی صورت حال غیرمستحکم ہے لیکن یونان کے علاوہ لیفٹ نے کہیں بھی صورت حال سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

طارق علی کا علمی و ادبی سفر

سیاست اور تاریخ سے متعلق کتب

Pakistan: Military Rule or People’s Power (1970)

Can Pakistan Survive? (1982)

The Nehrus and the Gandhis (1985)

1968 and After: Inside the Revolution (1978)

Street Fighting Years: An Autobiography of the Sixties (1987 and 2004)

The Clash of Fundamentalisms (2002)

Bush in Babylon (2003)

Rough Music (2005)

Conversations with Edward Said (2005)

Pirates Of The Caribbean: Axis Of Hope (2006)

The Leopard and the Fox (2006)

A Banker for All Seasons (2007)

The Duel: Pakistan on the Flight Path of American Power (2008)

The Obama Syndrome (2010)

ناول

Shadows of the Pomegranate Tree (1992)

The Book of Saladin (1998)

The Stone Woman (1999)

A Sultan in Palermo (2005)

Night of the Golden Butterfly (2010 )

Redemption (1991)

Fear of Mirrors (1998)

کچھ عرب اسپرنگ، صدام اورقذافی کے بارے میں

عرب اسپرنگ میں دو فیزتھے۔پہلا فیزبالکل آزادانہ اور غیرملکی اثر سے پاک تھا۔سب حیران رہ گئے۔امریکا بھی۔سعودی عرب بھی۔یہ کیسے ہوگیا، کہ مصر میں مبارک اور تیونس میں بن علی ہٹ گئے۔عرب اسپرنگ نوجوانوں نے آمریت سے تنگ آکر شروع کیا۔جمہوریت آنے سے ظاہر ہے، جو پارٹیاں طویل عرصے سے ادھرمنظم تھیں، اور جن نے سابقہ ادوار میں جبر برداشت کیا ، انھوں نے ہی آگے بڑھنا تھا۔مصر میں اخوان آگے بڑھے اور تیونس میں بھی ان کے دوست آگے بڑھے۔لیفٹ اور پروگریسوتو ادھر متبادل کے طور پر موجود ہی نہیں تھے۔جب معاملات آگے بڑھے تب امریکی بڑے زور سے ان علاقوں میں آئے اور سمجھوتے کئے۔

تیونس میں فرانسیسیوں کو استعمال کیا۔مصر کوخود کنٹرول کیا۔الیکشن کے بعد ایک طرف تو حسنی مبارک کے حامی نے ووٹ لیے، دوسری طرف مرسی نے ووٹ حاصل کئے۔اس بارے میں کوئی شک ہی نہیں کہ مرسی کو اقتدار میں آنے کے لیے امریکیوں نے گرین لائٹ دی۔مرسی کے جو ڈپٹی ان کمانڈ ہیں، ان سے امریکا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ ان کے اسٹریٹجک تعلقات گہرے ہوں۔ہم ان کے دوست ہیں اور ہم ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔اس لیے مصر میں سامراج مخالفت کا نام ہے نہ نشان۔شام میں بھی وہی ہوا جو مصر میں ہوا اور نوجوان آگے نکلے۔

بعث پارٹی اور اسد نے مذاکرات نہ کرکے بیوقوفی کی۔پہلے سال سے اپوزیشن کہہ رہی تھی کہ مذاکرات کرو۔قانون ساز اسمبلی بنائو، جو نیا آئین ڈرافٹ کرے۔پارٹیوں کو قانونی حیثیت دو۔اسد اگر یہ باتیں مان لیتا تو بچ جاتا لیکن اب اس کا بچنا مشکل لگتا ہے۔لیبیا میں قذافی کے خلاف چھوٹے چھوٹے جلوس شروع ہوئے تو مغربی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ قذافی کو اقتدارسے نکالنے کا اچھا موقع ہے۔کیوں کہ وہ انھیں چھیڑتا اور تنگ کرتا رہتا تھا۔ دوسری طرف ان کو پیسے بھی دیتا تھا۔ٹونی بلئیر کی حکومت کو لیبیا سے بہت پیسا ملا۔سیف الاسلام قذافی کہتا ہے کہ انھوں نے فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کی الیکشن مہم کو فنڈ کیا۔اس کے باوجود قذافی کو اس لیے ہٹایا کہ وہeccentric سا بندہ تھا ۔ناقابل بھروسہ ۔

غیر ملکی سرمایہ کاری اس نے لیبیا میں نہیں آنے دی اور کہتا تھا کہ تیل پر کنٹرول صرف لیبیا کی حکومت کا ہوگا۔لیبیا میں چھ ماہ نیٹو کے طیاروں نے بمباری کی،اب تک ہمیں نہیں بتایا گیا کہ ادھر کتنا جانی نقصان ہوا۔میرے خیال میں کم ازکم بیس یا تیس ہزار افراد مارے گئے۔قذافی جیسے جو لیڈر تھے، انھوں نے عوام کے لیے زیادہ نہیں کیا۔صدام نے اپنے ملک میں قذافی سے بہت زیادہ کیا۔عراق کا نظام تعلیم بہت اچھا تھا۔اسپتال بہت اچھے تھے۔عورتوں نے بہت ترقی کی۔ٹھیک ہے ، اس میں خامیاںبھی بہت تھیں لیکن کام بھی اس نے کئے، قذافی نے تو یہ بھی نہیں کیا۔اتنا عرصہ وہ اقتدار میں رہا لیکن لیبیا کا قبائلی اسٹرکچروہ نہیں توڑ سکا۔

لیکن جیسا بھی تھا، اسے ہٹاناناجائز تھا، کیوں کہ اس طرح مثال قائم ہوجاتی ہے کہ اگر لیبیا میں ہوسکتا توکہیں اور بھی کیا جاسکتا ہے۔امریکا نے سمجھا تھا کہ شام میں اسد کو آسانی سے ہٹادے گا لیکن روس اور چین نے کہا کہ تم نے لیبیا میں ہمیں دھوکا دیا ، تو شام کے لیے ہم تمھیں اقوام متحدہ کو استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ امریکا اور روس کے درمیان شام پر بات ہورہی ہے اور روسیوں کی پوزیشن ہے کہ اسد کو اب آرام سے نکلنے دینا چاہیے اور مذاکرات کرکے ریاست کو کسی صورت میں طریقے میں رکھا جائے۔لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکا ایسا کرنے دے گا۔اب تو ایسا ہے کہ لوگ باہر نکلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کدھر ہے اور انٹرنیشنل کمیونٹی سے مراد ، امریکا ہے۔وہ تحریک جس کا امریکا پر اس قدر انحصار ہو وہ بھی کیا تحریک ہوگی۔

بلیئر کی کتاب کرائم سیکشن میں ہونی چاہیے

طارق علی سے انٹرویوکرکے ہم لاہور کی معروف بک شاپ ریڈنگز پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ دوگھنٹے بعد ان کا ادھر آنا طے ہے تو ہم نے سوچا چلیں ، یہاں بھی ان سے مل لیتے ہیں۔وہ وقت مقررہ پرآگئے اور اتنی بے تکلفی اور اچھے انداز سے ملے ، جیسے ہم ان کے بہت پرانے جاننے والے ہوں جبکہ ابھی دو گھنٹے قبل ہی تو ان سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ان سے مل کر یہ احساس ہوا کہ ان کی شخصیت تصنع سے پاک ہے۔ دکان میں کتابوں کودیکھتے دیکھتے وہ جب سوانح عمری کے سیکشن میں پہنچے تو ادھر ٹونی بلئیر کی کتاب کو دیکھ کرانھوں نے دکان کے منیجر سے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ یہ کتاب آپ نے ادھر کیوں لگارکھی ہے ؟اس پر انھوں نے حیرانی سے کہا کہ آپ بیتی ہے، اس کی جگہ ادھر ہی بنتی ہے، جس پر طارق علی نے کہا کہ’’ یار! ٹونی بلیئر کی کتاب تو کرائم سیکشن میں لگانی چاہیے۔‘‘

یہاں ان کی کتاب The Duel: Pakistan on the Flight Path of American Power”پرزرداری حکومت کی جانب سے پابندی کا ذکر ہوا تو وہ کہنے لگے ’’ یہ پابندی صرف دو ہفتے رہی اور ایسی پابندیوں کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔ضیاء الحق کے دور میںمیری کتابcan pakistan survive? پرپابندی رہی۔ضیاء الحق سے ہندوستان میں پوچھا گیا کہ آپ نے طارق علی کی کتاب پر پابندی کیوں لگائی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ بڑی خراب کتاب ہے، اور یہ ہے وہ ہے لیکن ضیاء الحق کے کہنے سے کتاب کی فروخت میں اضافہ ہوگیا۔ میری پہلی کتابPakistan: Military Rule or People’s Power ، جس میں ، میں نے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کی پیش گوئی تھی،اس پر بھی پابندی لگادی گئی تھی۔‘‘

پروگریسو پیپرز پر قبضے کی مہم اور بھٹو

پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر قبضہ ہونے سے تین ہفتے قبل بھٹو نے جو اس وقت ایوب خان کابینہ میں وزیر تھے، میرے والد کو بتادیاتھا کہ پروگریسو پیپرزکے بارے میں حکومت سخت اقدامات کامنصوبہ بنا رہی ہے۔میرے والد یہ خبر لے کر میاں افتخارالدین کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ یار ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ کیا کرلیں گے۔یہ تو انھیں خیال ہی نہیں آیا کہ حکومت اخبارات کو قبضے میں لے سکتی ہے۔ایوب خان کو امریکیوں نے پہلا حکم ہی یہ دیا تھا کہ ان اخبارات کو ختم کرنا ضروری ہے ، کہ یہ تمھارے ملک میں روس کا ففتھ کالم ہیں۔امریکی حکم سے اخبار بند ہوئے، اور ’’ڈان‘‘ سے لے کر ’’نوائے وقت‘‘ تک سب نے اس فیصلے کو سراہا اور کہا کہ یہ پابندی پاکستانی صحافت کے لیے بڑی اچھی چیز ہے۔میاں افتخار الدین 1962ء میں فوت ہوگئے۔وہ اگر زندہ رہتے تو ممکن ہے پیپلزپارٹی میں شامل ہوجاتے، اور بھٹو سے پروگریسیو پیپرز لمیٹڈ واپس لینے کی کوشش کرتے۔

اب بھٹو واپس کرتا یا نہیں ، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان ٹائمز پر قبضے کے بارے میں بھٹومیرے والد کو گھر اطلاع دینے آئے تھے۔مجھے یاد ہے،اپریل 1959 کی ایک صبح جب میں اسکول جارہا تھا توجھنڈے والی لیموزین گاڑی ہمارے گھر میں داخل ہوئی، اور اس میں سے حکومتی وزیر نکلے اور میرے والد کے کمرے میں چلے گئے، یہ بھٹو تھے، اسکول سے واپسی پر میری والدہ نے بتایا کہ وہ میرے والد کو پاکستان ٹائمز پر قبضے کے بارے میں بتانے آئے تھے۔بھٹو نے میرے والد پر زور دیا تھا کہ وہ بدستور چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہیں،لیکن انھیں یہ کسی صورت گوارا نہیں تھا، اس لیے انھوں نے استعفا دے دیا۔بھٹو کے ساتھ جودوسرے وزیراخبارات پر قبضے کے معاملے کو دیکھ رہے تھے، وہ جنرل کے ایم شیخ تھے۔

٭ والد سے سیاسی اختلاف بہت سے تھے لیکن وہ اس کا برا نہیں مناتے تھے۔وہ سوویت یونین کے حمایتی تھے،اور میں تو کبھی نہیں تھا۔سوویت یونین ان کے سامنے ٹوٹا۔ ہمارے جیسے لوگ کہتے تھے کہ یہ نظامviable نہیں ہے، اس لیے کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔لیکن کس میکانزم کے ذریعے ہوگا یہ نہیں پتا تھا۔ اس معاملے میںان سے بہت بحث ہوتی ۔میں نے زندگی میں وہی کیا ، جو میں چاہتا تھا۔ میں جو کچھ کررہا تھا، اس سے میرے والدین بہت خوش تھے۔تعلقات بہت اچھے تھے ۔بچپن میں ان کے ساتھ پاکستان ٹائمز چلا جاتا تھا اور ادھر نظام دین جو ریفرنس سیکشن میں تھے ، وہ مجھے بھی پڑھنے کے لیے پروف لادیتے۔چھوٹا بھائی ماہرعلی چار سال کا تھا، جب میں باہر چلا گیا اس لیے وہ میرے ساتھ بڑا نہیں ہوا۔ بہن توصیف کے ساتھ بہت دوستی رہی۔

سامراج مخالف‘ ادب کے نوبیل انعام سے محروم

عالمی ادب پر گہری نظر رکھنے والے طارق علی کے پسندیدہ ادیبوں کی طویل فہرست ہے، جس میں انڈونیشیا کے پرمودیہ آنند طور کا درجہ بہت اونچا ہے۔ان کا ذکر وہ اکثر کرتے ہیں،انھوں نے اپنی کتاب ’’بنیاد پرستیوں کا تصادم ‘‘میں اس مایہ نازادیب کو‘جس کا عرصۂ حیات سہارتو نے تنگ کررکھا تھا،شاندار لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا ۔طویل عرصہ جیل میںگزارنے والے اس لکھاری کا کتب خانہ سہارتوکے آدمیوں نے نذرِ آتش کردیا تھا۔طارق علی کے بقول، پرمودیہ آنند طور ادب کے نوبیل انعام کا حق دار تھا لیکن اس انعام کو دینے والی کمیٹی کے اپنے معیارات اور ترجیحات تھیں، جس کے باعث وہ انعام سے محروم رہا۔

کرکٹ کا شوق

لیون ٹراٹسکی spectator gamesکو پسند نہیں کرتے تھے، ان کا خیال تھا کہ یہ حکمران طبقے کی طرف سے ورکرز کو الجھائے رکھنے کی سازش ہے ، ٹراٹسکی کے اس کہے کو ممکن ہے بہت سے لوگوں نے مانا لیا ہو لیکن ان کے دو بہت ہی معروف ماننے والوں نے اس بات پر کا ن نہیں دھرے، ان میں ایک تو ممتازمارکسٹ دانشور سی- ایل- آر جیمز ہیں، جنھوں نے کرکٹ پر”Beyond a Boundary” کے نام سے لازوال کتاب لکھی ، دوسرے طارق علی ہیں، جن کو بچپن سے کرکٹ میں دلچسپی ہے‘ جو اب بھی برقرار ہے۔ ان کی ایک کتاب سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے انتظار کے سلسلے میں‘ ان کی بیتابی کا پتا چلتا ہے۔طارق علی نے بتایا کہ ان کا سی ایل آر جیمز سے تعلق رہا اور انھیں کرکٹ سے اب بھی بہت زیادہ لگائو ہے۔

(1) تبصرہ

صفحہ شیئر کریں

صفحہ پرنٹ کریں

دوستوں کو بھیجئے

on Twitter, become a fan on Facebook

    (1)  تبصرے

محمود الحسن نے طارق علی سے گفتگو کا حق ادا کیا۔ ایک مکمل گفتگو، محمود صاحب ، مبارک باد قبول کیجیے

تجویز 2

رانا محمد آصف

4:49 PM

اپنی رائے دیجئے

(نام (ضروری ہے

(ای میل (ضروری ہے

ویب سائٹ

ایکسپریس کے بارے میں

ہم سے رابطہ کریں

ایکسپریس ٹریبیون

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2013 ایکسپریسس اردو

20°C کم36°C زیادہ موسم

آج کا اخبار BETA 1.0

صفحۂ اول

پاکستان

نقطہ نظر

بزنس

کھیل

ثقافت

انٹر نیشنل

میگزین

سلائیڈ شوز

ویڈیوز

ٹریبیون

تازہ ترین

امیدواروں کوفول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے،سندھ پولیس

میگزین مزید خبریں

’’ایم ایم عالم بھارت کے6طیاروں کے پیچھے اکیلا ہی دوڑ پڑا‘‘

پورے عالم کو ورطہ حیرت میں ڈالنے والاشاہین ایم ایم عالم

بڑھاپے میں بھی پرفارمنس نوجوان ہیروز سے بڑھ کر: بروس ولس

ڈرون ،خونی جنگوں سے لے کر فصلوں کی رکھوالی تک

جواہرات کے قبیلے کا نرینہ نگینہ : فیروزہ

سلطانی ٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ : عوام کے حق رائے دہی اور جمہوریت کا تاریخی و عالمی سفر

آئی بہار سی پھوار سی لان کی رُت

بُک شیلف

نتیجے کے مطابق

دستور پاکستان 1973ء میں آرٹیکل 62،63 کیا ہے؟

Pages: 1 2 … 46

سلائیڈ شوز

پاکستان فیشن ویک کا پہلا روز

ٹائمز آف انڈیا فلم ایوارڈز میں بالی ووڈ ستاروں کا میلہ

کراچی میں رم جھم

سنڈے میگزین کی تصویری جھلکیاں

نیٹ ورک اور خدمات



ٹویٹر

آر ایس ایس

فیس بک

یو ٹیوب

سرمایہ داری نظام سخت بحران میں ہے‘ افسوس ! اس کا متبادل پیدا نہیں ہوسکا

محمود الحسن  اتوار 31 مارچ 2013

(1) تبصرہ

صفحہ شیئر کریں

صفحہ پرنٹ کریں

دوستوں کو بھیجئے

عالمی شہرت یافتہ دانشور اور ادیب طارق علی سے مکالمہ۔ فوٹو: فائل

ہر لفظ کی حرمت ہوتی ہے،اس لیے کسی فلسفی نے ان کے غلط استعمال کو گناہ کبیرہ بتایاہے۔

ہمارے ہاں یہ گناہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے اور بہت سے لفظ بے وقر ہوتے جارہے ہیں،ایسا ہی ایک بیچارالفظ دانشور ہے،جس کی خوب مٹی پلید ہورہی ہے اور میڈیا کی برکت سے ہرایسے لال بجھکڑ کے لیے اس لفظ کو بے تامل برتا جاتاہے ، جو اگرگفتارکے جوہر دکھا رہا ہوتب بھی اور اگر خامہ فرساہو تب بھی، اس کی مبینہ علمیت اورثابت شدہ تعصب صاف عیاں ہورہا ہوتا ہے ۔دانشورکیا ہوتا ہے اور معاشرے میں اس کا کردار کیا ہوتا ہے، اس بارے میں ایڈورڈ سعید نے بڑی لمبی چوڑی بحث کی ہے ،جس میں سے دو نکات بہت اہم ہیں، ایک تو وہ کہتے ہیں کہ حقیقی دانشور طاقت اور اقتدار کے مراکز سے دور رہتا ہے، دوسرے وہ فکری اعتبار سے آزاد ہوتا ہے۔

ایڈورڈ سعیدنے اپنے ایک خطبے میں کہا تھا ’’ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آزادی بذات خودکوئی وصف ہے۔کیوں کہ متعدد بارآپ شاید غلطی پر ہوںلیکن اگر آپ آزاد نہیں تو آپ سے غلطی بھی سرزد نہیں ہوسکتی۔‘‘ ایڈورڈ سعید نے دانشور کے لیے جو کڑا معیار مقرر کررکھا ہے،اس پربہ تمام وکمال ان کے دوست طارق علی پورے اترتے ہیں، جو اسٹریو ٹائپ کو رداورظالم کو ڈنکے کی چوٹ للکار سکتے ہیں۔ وہ دانشوروں اور ادیبوں کی اس محدود اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں، جو قلم کے ساتھ ساتھ عملی جدوجہد کے ذریعے بھی بھرپوراحتجاج ریکار ڈ کراتی ہے۔ طارق علی کی فکرمیں پھیلائو اور تنوع بہت ہے ۔وہ امریکی پالیسیوں کو شدید ہدفِ تنقید بناسکتے ہیں۔ عراق پرحملے کی وکالت پرٹونی بلیئر کی ایسی تیسی کرسکتے ہیں۔

اہل عراق اور افغانیوں پر ہونے والے ظلم کا درد انھیں محسوس ہوتا ہے۔نائن الیون کی آڑ میںچیچن مسلمانوں پر ستم ڈھانے والے پیوٹن کی خبر وہ لیتے ہیں۔اور تو اورکشمیریوں سے ہونے والی زیادتی پر بھی بات کرتے ہیں ، اور حیرت اس بات پر ہے کہ ان کا سیکولرازم بھی خطرے میں نہیں پڑتا۔مغربی میڈیا کی منافقت کا پردہ بھی چاک کرتے رہتے ہیں۔وہ یہ سب اس لیے کر گزرتے ہیں،کہ ان کا دل مظلوموں کے واسطے دھڑکتا ہے۔بات جو دل میں ہو وہی ان کی زبان پر ہوتی ہے۔حالیہ دنوں میں ہونے والے لاہور لٹریچر فیسٹیول کی تقریب کو ہی لیجیے۔

وہ جس پینل کاحصہ تھے، اس میں شامل اراکین سے جب پوچھا گیا کہ آیندہ الیکشن میں وہ کس کو ووٹ دینا پسند کریں گے تو اس سوال کو اور کسی نے تو قابل اعتنا نہیں جانا مگر طارق علی نے واشگاف لفظوں میں عمران خان کو ووٹ دینے کی بات کردی۔ طارق علی نے فیسٹیول میںجو گفتگو کی، اس میںان کا عمران خان کے حق میں بولناسب سے زیادہ زیر بحث رہا ۔ان سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو ہم نے پوچھا ’’ آخر آپ کس بنیاد پر عمران کو ووٹ دینے کی بات کرتے ہیں؟‘‘اس سوال پر ان کا جواب تھا’’عمران اگر اقتدار میں آگیایا اس نے اتنے ووٹ حاصل کرلیے کہ اس کی جماعت اپوزیشن میں آگئی تو اس سے نوجوان طبقے کو کچھ فائدہ ہوگا اور وہ سوچیں گے ، ہم بھی اٹھ سکتے ہیں۔

پی پی پی اور ن لیگ کا جو پاورہے اگر یہ ٹوٹ جائے تو اچھی بات ہے، اس سے سیاسی حوالے سے کچھ spaceپیدا ہوگی۔‘‘ ہمارا اگلا سوال تھا’’عمران خان کی مخالف سیاسی جماعتیں اور بعض لبرل سوچ رکھنے والے افراد مثلاًعاصمہ جہانگیر کا کہناہے کہ ان کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے؟ ’’اسٹیبلشمنٹ کے آدمی تو آصف علی زرداری ہیں اور میرے خیال میں وہ اس سے بہت خوش ہے۔عمران تو ابھی پاور میں نہیں آیا۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے۔عمران کواسٹیبلشمنٹ کا آدمی کہنے والے زرداری کے خلاف بات نہیں کرتے۔اس کے ساتھ، بہت سے انسانی حقوق والے تصویریں بھی کھنچواتے ہیں ، ملتے بھی ہیں۔ باہر جاکر اس کی تعریف بھی کرتے ہیں۔زرداری سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی کون ہوسکتا ہے۔‘‘

ہم نے پوچھا: ’’لیکن عمران کے اردگرد کچھ ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کا اسٹیبلشمنٹ سے تعلق کسی سے چھپا نہیں ؟‘‘ اس سوال پر طارق علی بولے ’’عمران کی ہر بات سے مجھے تھوڑی اتفاق ہے‘ نہ ہی وہ میری ہر بات سے اتفاق کرتا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگر جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ پی پی پی اور ن لیگ میں سے زیادہ پیسے کون بناتا ہے تو ایسی جمہوریت کیسے رہ سکتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم ، صحت اور رہایش کے مسئلے حل نہ ہوئے توحالات خراب ہی رہیں گے۔لوگ کہتے ہیں کہ مدرسوں میں بڑی غلط چیزیں سکھائی جاتی ہیں، مثلاً شیعوں کو کافر کہا جاتا ہے‘ جو بالکل غلط بات ہے۔

لیکن اس کا متبادل حل یہ ہے کہ ریاست کا تعلیمی نظام اگر مضبوط ہو تو لوگ اپنے بچوں کو مدرسوں میں نہیں بھیجیں گے۔آخر غریب کیوں بچوں کو مدرسے میں بھیجتے ہیں؟ اس لیے کہ متبادل نظام تعلیم نہیں۔ایسے اسکول ہیں، جو رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کاوجود نہیں۔کرپشن کینسر کی طرح معاشرے کو کھارہی ہے لیکن مسائل حل کرنے کے لیے کسی پارٹی میں عزم ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کی اس حکومت جیسی کرپٹ حکومت پاکستان میں کبھی نہیں آئی۔عمران یہ کہتا تو ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو ٹھیک کریں گے۔ درست ہے ‘اس کے پاس پورا پروگرام نہیں لیکن کچھ چیزیں بھی وہ کردے تو ملک آگے بڑھے گا۔عمران سے بہتر متبادل اس وقت مجھے کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔

میں نے لٹریچر فیسٹیول میں عمران کے حق میں بات کی تو ایک بڑے گورنمنٹ آفیشل جو پرانے واقف ہیں ، ان کا فون آیا کہ میں نے بڑی غلط بات کی ہے اور مجھے لیفٹ کی پارٹی کو سپورٹ کرنا چاہیے تھا۔میں نے کہا کہ لیفٹ پارٹی ہے کون؟چھوٹے چھوٹے گروپ ہیں۔ بنیاد ان کی ہے نہیں۔ ایک گروپ دو دوسرے گروپوں سے مل گیا اور ایک پارٹی بن گئی۔اچھی بات ہے کوشش کررہے ہیں لیکن ایک کے ساتھ صفر ملادیں تو ایک ہی رہتا ہے۔مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ گورنمنٹ کا بندہ یہ کہہ رہا ہے، یعنی عمران سے اتنا خوف ہے ان کو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پھر اچھی باتیں کررہا ہوگا۔‘‘ پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ناقد ، طارق علی کا بتانا تھا ’’اوباما پر میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بش کی پالیسیوں کو اس نے جاری رکھا ۔

صرف اکا دکا مسئلوں پر اتفاق نہیں۔بش نے کہا بھی ہے کہ اوباما اس کے کام کو آگے لے کر جارہا ہے۔اور یہ سچ ہے۔ پاکستان میں بھی یہی حال ہے۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں فرق نہیں۔دونوں ایک جیسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ پارٹیاں نہیں دو مختلف قبیلے ہیں، یا جیسے کرکٹ کلب ہوتے ہیں، میں اس کلب کو پسند کرتا ہوں، اور دوسرا کسی اور کرکٹ کلب کو پسند کرتا ہے۔یعنی عادت اور پسند کا معاملہ ہے، اصول اور آئیڈیولوجی کی بنیاد پران جماعتوں کی حمایت کوئی نہیں کرتا۔‘‘ نواز شریف کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کے تاثر کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’’ آپ اقتدار میں نہ ہوں تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باتیں کرنا آسان ہوتا ہے ،اقتدار میں آکر آپ ان کے بغیر نہیں چل سکتے۔

فوج کے بغیر خارجہ پالیسی کون بناسکتا ہے؟’’اس پر ہم نے پوچھا ’’نواز شریف نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشش تو کی تھی اور آپ نے خود کہہ رکھا ہے کہ 1999ء میں ان کی حکومت ختم کرنے کی وجہ ان کا یہی اقدام بنا ؟‘‘جواب آیا ’’بھارت سے دوستی کی پالیسی نواز شریف کا اچھا فیصلہ تھا۔اسے کچھ سمجھ تو ہے، کیوں کہ بزنس مین ہے اور بزنس مین ہوشیار ہوتا ہے، اس کو پتا ہے، ہمارے لیے سب سے بڑی مارکیٹ انڈیا ہے، اس لیے انھوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہے۔لیکن انھیں فوج کی تائید حاصل نہیں تھی اس لیے کارگل کی جنگ شروع کی گئی۔ فوج کو کوئی جماعت قابو میں نہیں رکھ سکتی، بھٹو کو یہ غلط فہمی ہوئی تھی ، جس کا نتیجہ انھوں نے دیکھ لیا۔بے نظیر جس زمانے میں آکسفرڈ میں تھیں، انھوں نے مجھے بڑے یقین سے کہا تھا کہ پاکستان میں فوجی بغاوت کا امکان نہیں، کیوں کہ ضیاء الحق ان کی جیب میں ہے۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ پاکستان میں جرنیل کبھی کسی سویلین کی جیب نہیں ہوتا۔ ‘‘

٭ ’’بھٹو جب جیل میں تھے اس وقت بھی زیادہ ترلوگوں کا یہی خیال تھا کہ انھیں پھانسی نہیں ہوگی اور آپ جب وہ ابھی اقتدار میں تھے، اس وقت مارشل لا اور ان کے فوج کے ہاتھوں مارے جانے کی پیش گوئی کررہے تھے ، جو بعدازاں درست ثابت ہوتی ہے۔اس تجزیے کی بنیاد کیا تھی ؟‘‘

’’ایک بات تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ سے پاکستانی سیاست فالو کررہا تھا۔دوسرے سیاسی Instinctبھی ہوتی ہے۔مجھے شک تھا کہ اگر فوجی بغاوت ہوئی تو بھٹو کو ماردیں گے۔نیوکلیئرکے معاملے پر کسنجرنے بھٹوکو عبرت ناک مثال بنادینے کی دھمکی دی تھی تو ایسا فوج کے علاوہ اور کون کرسکتا تھا۔یقینی طور پرامریکیوں کی آشیرباد سے بھٹو کوپھانسی دی گئی۔امریکی بھٹوکو Un Predictable ہونے کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے۔‘‘

٭ ’’کیا بے نظیر بھی باپ کی طرح ان Un Predictable تھی؟‘‘

’’ہاں!لیکن بھٹو کا معاملہ مختلف تھا۔بھٹو کے ساتھ عوامی تحریک بہت بڑی تھی، اسی سے انھوں نے پارٹی کو بنایا اور اقتدار حاصل کیا۔بھٹو کی مقبولیت سے امریکا اور دوسرے ممالک بھی فکرمند تھے۔لیکن وہ کتنا آگے جائیں گے، اس کا انھیں دو برس میں پتا چل گیا تھا ، کہ ان کے ہاں باتیں زیادہ اور کام کم ہے لیکن تب بھی وہ نیوکلیئر پروگرام کے معاملے پر ان سے ناراض ہوگئے تھے۔پی این اے کو امریکا نے سپورٹ کیا۔ سعودی سفیرکو معاملات میں شریک کرکے بھٹو نے غلطی کی۔مولانا مودودی کے پاس وہ جاتے رہے۔مذہبی جماعتوں کے دبائو سے نروس ہوکران کے مطالبات مانے لیکن انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘

دنیا بھر کے انتخابی نظاموں پر نظر رکھنے والے طارق علی پاکستان کے لیے متناسب نمائندگی کے طریقہ انتخاب کو بہترجانتے ہیں۔ان کے خیال میں ’’ متناسب نمائندگی اگر آجائے تو ملک زیادہ جمہوری ہو جائے گا۔متناسب نمائندگی کے مخالفین کہتے ہیں کہ اگر یہ نظام آگیا تو جماعت اسلامی کے اتنے نمائندے ہوں گے اور فلاں مذہبی تنظیم کے اتنے نمائندے۔اگر یہی سوچنا ہے تو جمہوریت کو بھول جائیں۔برطانیہ جہاں سے first-past-the-post کا نظام آیا ہے ادھر بھی مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئرپاپولر ووٹ کی اکثریت سے نہیں جیتے تھے ۔میرے خیال میں متناسب نمائندگی سے معاشرے کی زیادہ بہترشکل سامنے آئے گی۔اگرکسی رجعت پسند پارٹی کو زیادہ نمائندگی ملتی ہے تووہ اس کی مستحق ہے، اس سے عوام کی تربیت بھی ہوگی۔اگر آپ انھیں پیچھے رکھیں گے تو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ ہتھیار اٹھالیںاور انتہا پسندی کی طرف مائل ہوجائیں۔ملک میں اگررجعت پسند قوتیں ہیں تو آپ ان سے بھاگ نہیں سکتے۔ان سے بحث اور مکالمہ ضروری ہے۔میں ہمیشہ سے متناسب نمائندگی کا حامی ہوں۔‘‘

طارق علی سے ہم نے پوچھا: ’’ ایڈورڈسعید نے “Covering Islam”میں مغربی میڈیا کاکچا چٹھاکھولا ہے ، اور آپ کی کتاب Rough Music سے بھی پتاچلتا ہے کہ برطانیہ میں میڈیا نے کس شرمناک طریقے سے عراق پر حملے کے معاملے پرٹونی بلیئر کی حمایت کی،اس سے تو لگتا ہے کہ میڈیا کی آزادی فراڈ ہے؟‘‘

’’ فراڈ نہیں ہے لیکن میڈیا اپنی آزادی کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتا۔نیویارک ٹائمز اور گارجین میں اچھے مضامین بھی آجاتے ہیں۔ یورپ اور امریکا میں تمام اخبارات کا ایجنڈا ایک ہوتا ہے،حکومتیں جو چاہتی ہیں، ادھر چل پڑتے ہیں۔ حکومت اگرموقف اختیار کرے کہ کسی ملک پر حملہ کرنا ہے تو میڈیاکہنے لگتا ہے کہ ہاںیہ جنگ ضروری ہے، اس کے سوا گزارا نہیں ہے۔ میڈیا خاصا ابتری کا شکار ہوچکا ہے اوریہ سرمایہ داری نظام کی وجہ سے ہے۔‘‘

طارق علی کی ایڈورڈ سعید سے دوستی رہی ۔ ایڈورڈ سعید سے ان کی گفتگو کتابی صورت میں سامنے آئی تو اسے خاصی پذیرائی ملی۔ایڈورڈ سعید کی کتاب اورینٹل ازم کی موجودہ دور میں relevance اور ان کی دانشورانہ حیثیت کے بارے انھوں نے بتایا ’’میرے خیال میں ایڈورڈ سعید کی کتاب اورینٹل ازم میں اب زیادہ جان نہیں۔انھوں نے جب اس کتاب کو لکھا تو ان کا زیادہ زور تو اس پر تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے بارے میں مغرب میں کیا تصورات تھے، لیکن اس سے جو تھیوری بن گئی کہ سارا مغرب جو ہے مشرق کو تعصب سے دیکھتا ہے، وہ ٹھیک نہیں تھا۔لوگوں نے ان کی کتاب پڑھی اور پھر اپنی مرضی سے تخمینے لگائے،جس کو ایڈورڈ خود بھی پسند نہیں کرتے تھے۔

جن مشرقی ملکوں کی وہ بات کررہے تھے ،وہ کافی عرصے سے نوآبادیات نہیں رہے تھے، اس لیے سب کچھ تو آپ مغرب پر نہیں ڈال سکتے۔یہ بات درست ہے کہ یورپ کے سامراجی ملک یہ کہتے تھے، دیکھو! یہ معاشرے خراب تھے، دیکھو! یہ کیا کرتے تھے، ہم نے انھیں جاکر تہذیب یافتہ بنایا ، سامراج تو یہ کرتا ہے۔ اب بھی برنارڈ لیوس جیسے لوگ موجود ہیں، جو یہ سوچ چلاتے ہیں، لیکن ان کا مقصد بالکل سیاسی ہے۔ لیوس اور اس کے حامی لوگ اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، اور جو اس کی مخالفت کرے اسے گالیاں دیتے ہیں۔سعید کو وہ بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔

برنارڈ لیوس عرب ملکوں کو اسرائیلی عینک سے دیکھتا ہے۔ایڈورڈ سعید کا خیال تھا کہ ان کی سب سے اچھی کتاب ’’کلچر اور امپریل ازم‘‘ ہے۔ وہ مغربی ملکوں میں فلسطین کے اہم نمائندے تھے۔اوسلو معاہدہ ہواتو انھوں نے کہا کہ یہ بات نہیں چلے گی، اوسلو فلسطینیوں کی شکست ہے، اس وقت ایڈورڈ اور میں ہی تھے، جو اس طرح سوچ رہے تھے، باقی لوگ تو  معاہدے کے حق میں تھے۔مغرب میں فلسطینیوں کے نمائندے کی حیثیت سے وہ یاد رکھے جائیں گا۔ادبی نقاد کے طور پر ان کا کنٹری بیوشن ہے۔ ’’کلچر اینڈ امپیریل ازم‘‘ زندہ رہے گی۔ ایڈورڈ کے کام کی سیاسی اور ثقافتی دونوں طرح سے اہمیت ہے۔‘‘

نان فکشن کے ساتھ طارق علی کے فکشن نے بھی بڑی مقبولیت حاصل کی۔فکشن کی طرف وہ دیر سے متوجہ ہوئے ۔ایک زمانے میںوہ فکشن لکھنے میں اس قدر منہمک ہوئے کہ سوچ بیٹھے کہ اب وہ نان فکشن نہ لکھ پائیں گے مگراس معاملے میں گڑ بڑ یہ ہوئی کہ نائن الیون ہوگیا اور انھیں نان فکشن کی طرف دوبارہ پلٹنا پڑا۔اپنے ناولوں کے بارے میں مختصراً انھوں نے بتایا ’’ Shadows of the Pomegranate Tree لکھ کر میں نے سوچا تھا کہ صرف اسپین میں مسلم تہذیب کے بارے میںلکھوں گا اور پھر رک جائوں گا۔لیکن ایڈورڈ سعید نے کہا کہ یہ تو تم نے بہت اچھی چیز لکھی ہے،اسے جاری رہنا چاہیے اور رکو نہ اور اب ساری تاریخ لکھ ڈالو۔اس کے بعد ’’The Book of Saladin ‘‘میں صلاح الدین ایوبی اور صلیبی جنگوں کے بارے میں لکھا۔

اس ناول کا ترجمہ عبرانی میں بھی ہوا۔’’The Stone Woman‘‘عثمانیہ سلطنت پر ہے۔’’ Sultan in Palermo ‘‘سسلی کے پس منظر میں ہے،لوگوں کو پتا ہی نہیںتھا کہ سسلی میں مسلم کلچرکتنا پھیلا ہوا تھا۔ اور آخری ناول ’’Night of the Golden Butterfly ‘‘ لاہورسے شروع ہوتا ہے، لاہور کی چینی کمیونٹی سے ، جو تصوراتی ہے لیکن تاریخی تفصیلات بالکل ٹھیک ہیں۔ میں نے بتایا ہے کہ انیسویں صدی میں چین میں بہت بڑی شورش ہوئی اور مسلمانوں نے ایک بہت اچھا اسٹیٹ، جو بالکل سیکولرمسلم اسٹیٹ تھا، اسے قائم کیا، جس کو چینی فوج نے ختم کیا۔یہ کہانی اور کہیں نہیں چھپی ۔دو تین ماہ قبل ہندوستان گیا تو ادھر پنجابی کے لوگ ملے جنھوں نے مجھ سے انٹرویو کیا جو نیٹ پرموجود ہے۔انھوں نے مجھے کہاکہ وہ میرے ناولوں کا ترجمہ گورمکھی میں کرانا چاہتے ہیں ، میں نے انھیں بخوشی اجازت دے دی۔ ‘‘

٭ نان فکشن اور فکشن لکھنے میںکیا فرق محسوس کرتے ہیں ؟

نان فکشن کہیں بھی لکھی جاسکتی ہے۔فکشن جب لکھتاہوں تو کافی الگ تھلگ ہوجاتاہوں۔سمندر کے پاس کاٹیج لے لیتا ہوں یا Writers Retreat لے لی۔مہینہ دو مہینہ چھپا رہتا ہوں۔ فکشن آپ کے اندر سے ابھرتی ہے۔لکھتے ہوئے لاشعور سے بہت چیزیں اوپرآجاتی ہیں۔کئی کردارجنھیں آپ نے سوچا بھی نہیں ہوتا، لکھتے ہوئے وہ نکل آتے ہیں۔ ‘‘

٭ مثلاً ایسا کوئی کردار؟

’’ Shadows of the Pomegranate Tree‘‘ میں زندیق کے نام سے کردار ہے، جو متشکک مسلمان ہے۔اس کا مجھے خیال نہیں تھا کہ یہ ابھرے گا مگر وہ اتنا زیادہ ہوگیا کہ پھر اسے روکنا پڑا کہ یہ کردار تو سارا ناول لے جائے گا۔بہت سے لوگوں نے اس کردار کی تعریف کی ۔اور پوچھا کہ یہ تو بہت عمدہ کردار ہے، اسے آپ نے کب سوچا۔‘‘

طارق علی کے خیال میں، پاکستان میں لیفٹ ہمیشہ کمزور رہا،تقسیم سے بھی نقصان ہوا کہ تربیت یافتہ ہندو اور سکھ کیڈر یہاں سے چلے گئے۔انڈیا میںلیفٹ کمزور نہیں تھا لیکن انھوں نے انتخابی سیاست میں جاکر اپنی بدنامی کرائی۔سجاد ظہیرکے ادبی مقام کو تسلیم کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں، انھیں کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنانے کا فیصلہ صحیح ثابت نہیں ہوااور وہ منتظم کے طور پر کامیاب نہیں رہے۔ سجاد ظہیر سے ایک بار انھوں نے راولپنڈی سازش کیس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ جنرل اکبر نے یہ منصوبہ ایک کاک ٹیل پارٹی میں، جس میں فیض بھی شریک تھے ، پیش کیا۔اس پر انھوں نے پوچھاکہ اتنا اہم معاملہ اور آپ اسے کاک ٹیل پارٹی میں ڈسکس کررہے تھے؟سجاد ظہیر نے جواب دیا تو پھر کیا؟اس پر انھوں نے کہا کہ توپھریہ کہ نتیجہ آپ نے دیکھ لیا۔

انگریزی میں تحریر وتقریر میں مہارت رکھنے والے طارق علی اردو زبان میں بھی اپنا مافی الضمیربخوبی بیان کرتے ہیں لیکن پنجابی زیادہ سہولت سے بولتے ہیں۔کہتے ہیں ’’ ہمارے ہاں بیوروکریسی نے پنجابی کو بالکل کرش کر دیا اور پنجابیوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ ان کی زبان vulgarہے ، اس لیے پنجابی اپنے بچوں کو بھی پنجابی نہیں بولنے دیتے ۔پنجابی دیہات اور شہروں میں بولی جاتی ہے لیکن پھر بھی لوگوں کا خیال ہے اردو میں بات کرنا زیادہ مہذب ہے۔‘‘طارق علی کو اس بات پر افسوس ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے تقسیم کے وقت جان سے گزر جانے والوں کے لیے کوئی یادگار تعمیر نہیںکی۔

لاہور کے گلی کوچوں میں بچپن اور جوانی کے سنہرے دن گزارنے والے طارق علی سے ہم نے پوچھا ’’ شہرکو موجودہ حالت میں دیکھ کر کیسا محسوس کرتے ہیں۔’’ وہ لوگ جو بوڑھے ہوجاتے ہیں، سبھی اپنے شہر کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ اس لیے یہ کوئی اوریجنل خیال نہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ جب آپ شہر کے ساتھ بوڑھے ہوں تو پھر عجیب نہیں لگتا، لیکن اگر آپ شہر سے باہر نکل گئے اور دس پندرہ سال بعد پلٹے تو پھر آپ کہتے ہیں، یہ شہر کیسا ہوگیا ہے۔شہروں کی پوری دنیا میں یہی تاریخ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔چین میں اب بہت اچھا کررہے ہیں،کہ میڈیم سائز کے ٹائون بنارہے ہیں تاکہ بیجنگ اور شنگھائی پر دبائو کم ہو اور عام اور مڈل کلاس کے لوگ اس شہر کو آباد کریں۔شہر اگر بہت بڑے ہوجائیں تو سہولتوں کے اعتبار سے ان پر دبائو بڑھ جاتا ہے۔اس علاقے میں جب ہم آئے تو تین گھر تھے۔ دو میری پھوپھیوں کے اور ایک ہمارا۔ یہ 1956ء کی بات ہے۔اس سے قبل ہم قلعہ گجر سنگھ کے پاس نکلسن روڈ پر رہتے تھے۔‘‘

٭ پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں سرنگ کے دوسری طرف  روشنی کی کرن دکھائی دیتی ہے ؟

’’لٹریچر فیسٹیول میں نوجوانوں کو دیکھ کر متاثر ہوا اور مجھے لگا ان میں کچھ کرنے کی تڑپ ہے، اس لیے آگے بڑھ سکتے ہیں، اور نیاطبقہ پیدا ہوسکتا ہے۔اب تک تو ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائی والے پرانے لوگ ہی چل رہے ہیں۔نیا طبقہ آنے سے ممکن ہے حالات بہتر ہوں ، آخر یہ نوجوانوں کا ملک ہے، جہاں تیس فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے، اس لیے مایوس ہونے کی ضرورت ہے نہ امریکا کا ایجنٹ بننے کی ،آخر جنوبی امریکا والے اٹھے ہیں۔امید تب آئے گی جب عوام اٹھیںگے ۔ الیکشن کے نتیجے میں اگر نظام تعلیم اور صحت ٹھیک ہوگیا اور غریبوں کومکان مل گیا تو ان چیزوں کے آنے سے ماحول بدل جاتا ہے۔

اس وقت تو ہماری حالت بہت خراب ہے۔‘‘طارق علی کاعلمی وسیاسی اعتبار سے بڑے نامور لوگوں سے تعلق واسطہ رہا، لوگوں کو پسند انھوں نے ضرور کیا لیکن ان کا ہیرو کوئی نہیں رہا۔ بریخت کے اس قول پر ان کا یقین ہے کہ ’ قابل رحم ہے وہ قوم جس کو ہیروکی ضرورت ہوتی ہے۔‘جہد مسلسل پر یقین رکھنے والے طارق علی رجائیت پسند آدمی ہیں۔نظریاتی اعتبار سے وہ عمر بھر وفاداری بشرط استواری کے قائل رہے۔ان کے بقول ’’سوشلسٹ رہااور اب بھی ہوں۔ ساری عمرسامراج دشمنی کی ہے۔امید تھی مسائل جلد حل ہوجائیں گے لیکن امیدیں پوری نہیں ہوئیں،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مایوس ہوکر بیٹھ جائیں۔‘‘

امریکا کا اصل رشتہ بھارت سے ہے

افغانستان سے امریکی نکل گئے توان کی پاکستان میں دلچسپی ختم ہوجائے گی۔اس خطے میں ان کا زیادہ مفادانڈیا سے وابستہ ہے۔ امریکا اور انڈیا کے معاملات بڑے نزدیکی ہیں۔ایک تو وہ بڑی مارکیٹ ہے ، دوسرے امریکا ،چین کے مقابلے میں ہندوستان کو کھڑا کرنا چاہتاہے۔امریکی اپنے اس تعلق کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔کشمیر میں اتنا ظلم ہوتا ہے، پتا نہیں کتنے لوگ مارے گئے ہیں۔عورتیں ریپ ہوتی ہیں۔کشمیر بالکل ایک مقبوضہ ملک کی طرح ہے۔کشمیر سے متعلق مغربی میڈیا کتنی کوریج کرتا ہے؟ اب تو پاکستان میں بھی بہت کم کوریج ہوتی ہے۔تبت میں دوتین بدھسٹ مارے جائیں تو ساری دنیا کھڑی ہوجاتی ہے اور واویلا مچاتی ہے ،دیکھو! چینی کیا کررہے ہیں۔کشمیر میں مسلمان مارے جاتے ہیں، اس لیے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔امریکا کے جو حمایتی کالم نویس وغیرہ ہیں ، انھیں بھی فرق نہیں پڑتا۔کشمیریوں کے حق میں بات کرو تو کہیں گے یہ تو جہادیوں کے ساتھ ہے۔انڈیا میں بھی اسی طرح کے لوگ ہیں، ارون دھتی رائے کو چھوڑ کر کشمیریوں کی کوئی بات نہیں کرتا۔

پاکستان پر امریکی قبضے کے حامی دانشور

پاکستان میں کئی لبرل دانشور اور صحافی ہیں،جو امریکا کی حمایت کرتے ہیں، اور دل میں سوچتے ہیں کہ امریکا بڑھ کراس ملک پرقبضہ کرلے تووہ اس کے ساتھ تعاون کریں۔ان لوگوں کا خیال ہے وہ خود کچھ نہیں کرسکتے جب تک کوئی پاور باہر سے نہ آئے۔یہ کام عراق اور لیبیا میں بھی کچھ لوگ کرتے ہیں۔عرب دنیامیں بھی ایسے لوگ ہیں، یہ گلوبل فینومینا ہے۔

امریکا کی مذمت ، طالبان کی حمایت تھوڑی ہے

طالبان اور امریکا دونوں کو آپ ایک ساتھ برا کہہ سکتے ہیں۔میں نے اپنی کتاب’’ بنیاد پرستیوں کا تصادم‘‘ میں لکھا ہے کہ سامراج اور جہادی دہشت گردی ایک ہی فینومینا کی مختلف شکلیں ہیں۔تاریخ دیکھیں تو آپ کو پتاچلتاہے کہ یہ لوگ اٹھے کیسے۔سارے جہادی گروپ سوویت یونین کے ساتھ جنگ میں امریکا کے ساتھ تھے۔مغرب سے پیسا آیا اور آئی ایس آئی نے انھیں بنایا۔ان سب کی ریگن اور تھیچر کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔اب یہ ان سے کنٹرول نہیں ہورہے۔ہم تب بھی ان کے خلاف تھے اور اب بھی ہیں۔

لیکن ہم ساتھ میں امریکا کی بھی مذمت کرتے ہیں،کیونکہ وہ بھی بڑا مسئلہ ہے۔اگر آپ موازنہ کریں، جہادیوں کے جو چھوٹے چھوٹے گروپس کی کاروائیوں کا امریکا سے تو اس کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔اب عراق پرامریکا نے جو حملہ کیاہے، اس میں دس لاکھ عراقی مارے گئے۔ بیس لاکھ زخمی ہوئے ۔ لاکھوںیتیم ہوئے۔ پچیس لاکھ پناہ گزین ہیں ۔یہ سب کوئی جہادی گروپ تو کسی ملک میں نہیں کرسکتا۔دوسروں کو تو یہ لوگ انسان ہی نہیں سمجھتے۔ہم جہادیوں کو سپورٹ نہیں کرتے، ان کے خلاف ہمارا لکھا موجود ہے، لیکن یہ کہنا کہ امریکا کی مذمت کا مطلب جہادیوں کو سپورٹ کرنا ہے ، بددیانتی کی بات ہے۔

سامراجی پٹھوکو امن کا نوبیل انعام

مغرب میں بھی دانشور اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں‘ لوگ بدل جاتے ہیں۔ہر کسی کی اپنی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔کئی کی عادت ہوتی ہے بڑی پاور کے بغیران کی سوچ ٹھیک نہیں رہتی۔کئی لوگ ایسے تھے، جو تیس سال قبل سوویت یونین، چین اور کیوباکے بارے میں سوچتے تھے،سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد ایسا نہیں رہا اور جب چین کو سرمایہ دار بنایا گیا تو کئی دانشور مایوس ہوکر غیرمتحرک ہوگئے، اور کچھ نے سوچا کہ چلو اب دنیا میں ایک ہی پاور ہے تو اس کے ساتھ چلو۔اب مغرب میں ایسے لوگوں کا پورا ایک layer ہے۔

پھر دانشوروں کو امریکی انسٹیٹیوٹس سے کافی پیسا ملتا ہے، 2010  ء میں چین سے تعلق رکھنے والے Liu Xiaoboکو امن کا نوبیل پرائز دیا گیاہے ، وہ امریکا کے پے رول پر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چین کا المیہ یہ ہے کہ اس پر پچاس ساٹھ سال کسی سامراجی طاقت نے حکومت نہیں کی وگرنہ اس کی حالت بہتر ہوجاتی تو ایسے نظریات رکھنے والے کو نوبیل پرائز دے دیا جاتا ہے۔چین میں ان کو جیل میں ڈالا گیا تو ہم نے اس کی مخالفت کی اور میں نے ان کو رہا کرنے کے لیے دستخط بھی کئے۔ لیکن یہ بالکل الگ معاملہ ہے، اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ آپ انھیں نوبیل پرائز دے دیں۔

ترکی میں کیا ہورہا ہے؟

ترکی میں کیا ہورہا ہے،لوگ اوپر اوپر سے دیکھتے ہیں لیکن اصل میں نیچے کیا ہورہا ہے، اسے نہیں دیکھتے۔میں ترکی جاتا رہتا ہوں، اس لیے جانتا ہوں ادھر اصل میں کیا ہورہا ہے۔میں نے ترکی کے اسلامسٹوں کے بارے میں لکھا بھی ہے کہ نیٹو فیورٹ اسلامسٹ۔امریکیوں کے ساتھ ان کے سمجھوتے ہوتے ہیں۔وہ انھیں پسند کرتے ہیں۔میں تو انھیں نیٹو کا ایسٹرن فلینک کہتا ہوں۔اسرائیل کے خلاف بھی کیا بات کی۔ٹھیک ہے ، ایک بین الاقوامی فورم میں آپ نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔لیکن آپ کا عمل کیا ہے۔آپ کے اسرائیل سے تعلقات ہیں۔اس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں ہوتی ہیں ۔غزہ میں جنگ ہوئی تو لاطینی امریکا کے دو ممالک وینزویلا اور بولیویا نے اپنے سفیروں کو بلا کر اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرلیے، لیکن کسی عرب ملک نے ایسا نہیں کیا، ترکی نے بھی ایسا نہیں کیا، یہ کافی revealing بات ہے۔

اوپر اوپر سے آپ جو بھی کہتے رہیں،اصل بات تو اس سے determine ہوتی ہے کہ آپ کا عمل کیا ہے۔دوسرے جو معاشی نظام ترکی میں قائم کیا گیا ہے، وہ نیولبرل اکنامک سسٹم ہے۔نجکاری ہورہی ہے۔کرپشن بہت بڑھ گئی ہے۔وہاں کے مسئلے ہماری طرح سے ہیں لیکن ان کی لیڈر شپ تھوڑی سی بہتر اور زیادہ ہوشیار ہے۔ترکی میں کاروباری طبقے کے حکومت کے ساتھ ویسے ہی تعلقات ہیں جیسے یہاں زرداری حکومت کے ساتھ ہیں۔کردوں کا مسئلہ ہے۔ان کے دانشوروں اور صحافیوں کو قید میں ڈالا ہے۔اب کوشش ہورہی ہے کہ ان کے ساتھ بات ہو۔وہ الگ ہونا بھی نہیں چاہتے صرف خود مختاری چاہتے ہیں۔ترکی کے بارے میں یہ کہنا کہ ادھر بہت بڑی تبدیلی آگئی ہے ،پراپیگنڈا اورspinہے۔

طارق علی نے21اکتوبر1943ء کو لاہور میں آنکھ کھولی۔ ان کا تعلق بڑے معتبرسیاسی و علمی خانوادے سے ہے۔ان کے ناناسرسکندر حیات تقسیم سے قبل پنجاب کے وزیراعظم تھے۔ماموں سردار شوکت حیات بھی معروف سیاستدان تھے۔ان کے والد مظہر علی خان نے نواب زادہ ہونے کے باوجود اپنے لیے بائیں بازو کی سیاست کاراستہ چنا ۔قیام پاکستان کے بعد انگریزی صحافت میں معتبر مقام پایا۔1959ء میں حکومتی قبضے سے قبل کے آٹھ برس پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر رہے۔ 17برس انگریزی جریدہ’’ ویوپوائنٹ‘‘ ان کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔طارق علی کی والدہ معروف سیاسی کارکن طاہرہ مظہر علی خان جوانی میں بائیں بازو کے نظریات سے متاثر ہوئیں اور پھران کی تمام عمراس فکر کی ترویج میں گزری۔

چھوٹے بھائی ماہرعلی بین الاقوامی امور پرانگریزی میں لکھتے ہیں۔طارق علی کے ماںباپ نے پرآسائش زندگی تج کر کٹھن راہ کا انتخاب کیا ، یہ باغیانہ خو بیٹے میں بھی منتقل ہوئی اور تمام عمر عام آدمی کے حق میں آواز اٹھانا ان کا شیوہ رہا۔ طارق علی نے ابتدائی تعلیم سینٹ انتھونی اسکول سے حاصل کی۔گورنمنٹ کالج لاہور کے ممتاز طالب علموں میں شمار ہوئے۔بہترین مقرر کے طور پر ان کا شہرہ رہا۔ممتازصحافی خالد احمد جو اس زمانے میںجی سی کے طالب علم تھے،انھوں نے طارق علی کی شعلہ بیانی دیکھی اور ادھر ایک تقریب میں مظہر علی خان کی طلاقت لسانی کے جوہربھی ملاحظہ کئے ، ان کے بقول ’’میں کبھی فیصلہ نہیں کرسکا کہ ان دونوں میں بہتر مقرر کون تھا۔ تاہم میں نے ان دونوں سے بہتر مقررین کبھی نہیں سنے۔‘‘

ایوب آمریت کے خلاف جدوجہد کے باعث وہ اہل اقتدار کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹکنے لگے تو لاحق خطرات کے پیش نظر والدین نے بیٹے کو تعلیم کی غرض سے انگلینڈ بھجوادیا ۔ والد کی خواہش تھی، وہ قانون کی تعلیم حاصل کریں لیکن ان کا جی ادھر مائل نہیں ہوا اور انھوں نے آکسفرڈمیں سیاسیات، فلسفہ اور معاشیات کے مضامین پڑھے۔وہ آکسفرڈ یونین کے صدر بننے والے پہلے پاکستانی تھے۔اس دورمیں ان کی ملاقات میلکم ایکس سے ہوئی ، اوراس جانکاری نے انھیں بہت سرشار کیا کہ وہ عظیم آدمی بھی ویت نام اور کیوبا سے متاثرہے۔ویت نام جنگ کے خلاف مظاہروں میں وہ پیش پیش تھے۔برٹرینڈر رسل فائونڈیشن کے رکن رہے۔ لیون ٹراٹسکی کی فکر نے اوائل جوانی میں اس وقت انھیں اپنی طرف کھینچا جب انھوں نے Deutscher کی لکھی ٹراٹسکی کی لازوال سوانح عمری کا مطالعہ کیا۔

پھرٹراٹسکی کی ’’میری زندگی‘‘پڑھی تو وہ انھیں فکشن کی طرح سے دلچسپ لگی۔اس رو میں انکی دوسری بہت سی تحریروں سے ذہن منور کیا۔ساٹھ اورستر کی دھائی کے اس ممتاز ترین ٹراٹسکائیٹ کو ٹراٹسکی کی شخصیت، فکر اور طرز تحریر تینوں نے بہت متاثر کیا۔وہ ان اعتبارات سے اب بھی ان کے قدر دان ہیں لیکن وہ ان کے اندھے مقلد کل بھی نہیں تھے اور آج بھی نہیں۔مارکس ، لینن ، ٹراٹسکی اور گرامچی کو وہ عظیم مفکر قرار دیتے ہیں ، لیکن انھیں خدا کا درجہ دینے کے ناقد ہیں۔ ان کے خیال میں،کیمونسٹ اور ٹراٹسکائیٹ تحریکوں کے ساتھ یہ خرابی رہی ہے کہ وہ بحث کو مارکس نے یہ کہا اور ٹراٹسکی نے وہ کہا کی بنیاد پرفیصلہ کن بنانا چاہتے ، ان کے نزدیک یہ طریقہ مذہبی مناظرہ بازی سے ملتا جلتاہے جبکہ وہ مفکرین اہل مذہب میں سے تونہ تھے۔

زندگی بھر طارق علی کی شہرت کا منطقہ بدلتارہا۔کبھی وہ ایکٹوسٹ کے طور پر دنیا بھر میںمانے گئے تو کبھی سیاست و تاریخ کے بارے میں ان کی کتب کا دنیا بھر میں چرچا رہا۔فکشن کی طرف آئے تو ادھر بھی خوب پذیرائی ہوئی۔ فلم میکر اور ڈراما نویس کے طور پر خود کو منوایا۔سالہا سال سے نیو لیفٹ ریویو سے وابستہ طارق علی کے مضامین، گارجین، کائونٹر پنچ اور لندن بکس آف ریویو میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔دنیابھر میں انھیں مختلف موضوعات پر لیکچر دینے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ظلم کے خلاف بڑے سیاسی مظاہروں میں وہ اب بھی دل وجان سے شریک ہوتے ہیں۔

ایڈورڈ سعید سمیت دنیا کے کئی نامور دانشوروں سے ان کی دوستی رہی ۔سیاسی رہنمائوں سے ان کے تعلقات رہے اور وہ ان سے مشوروں کے طالب بھی رہے لیکن انھوں نے اپنی آزاد دانشور کی حیثیت کو کبھی دائو پر نہیں لگنے دیا۔ جوانی میںذوالفقار علی بھٹو کے اصرار پر بھی وہ پیپلز پارٹی کے بنیادی رکن نہ بنے۔مولانا بھاشانی کی طرف سے سیاسی سیکرٹری بننے کی پیشکش شکریے کے ساتھ مسترد کی۔ پاکستان سے باہرکئی عالمی رہنمائوں سے ان کی دوستی رہی، جن میں ہوگوچاویزنمایاں تر ہیں۔کیوبا کے فیڈل کاسترو،وینزویلا کے ہوگو چاویزاور بولیویا کے رہنما ایوموریلز کو دنیا بھر کے لیے امید کا محور قرار دینے والے طارق علی اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ لندن میں قیام پذیر ہیں۔

’’ابتدائی جھٹکے سے سنبھلتے ہی مجھے اس بات کا یقین ہوچلا تھاکہ حکومت الٹنے کی کوشش ناکامی سے دوچارہوگی۔دو ایسی وجہیں موجود تھیں ، جنھوں نے میرے حوصلے کو بلند رکھا۔پہلی وجہ یہ تھی کہ ملک کے عوام کی حمایت ہمیں بدستور حاصل تھی۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک روزمیں صدارتی محل میں فارغ بیٹھے بیٹھے شدید اکتاہٹ محسوس کررہا تھا۔میں نے فیصلہ کیا کہ میں شہر کے مضافاتی پہاڑی علاقے کی طرف نکل جائوںاور وہاں لوگوں سے بات چیت کروں اور کچھ تازہ ہوامیرے پھیپڑوں میں جائے لہٰذا میں اپنے دو ساتھیوں اور ایک محافظ کے ساتھ کار پر روانہ ہوگیا، لوگوں کے جذبے نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ایک عورت میرے پاس آئی اور بولی ’’چاویز میرے ساتھ آئو میںتمھیں کچھ دکھانا چاہتی ہوں۔‘‘

میں اس خاتون کے پیچھے پیچھے اس کے چھوٹے سے گھر میں داخل ہوگیا، گھر کے ایک کمرے میںاس خاتون کا شوہر اور بچے سوپ کے منتظر بیٹھے تھے جو اس خاتون نے چولہے پر چڑھا رکھا تھا۔وہ عورت کہنے لگی’’دیکھو میں سوپ پکانے کے لیے لکڑی کے طور پر کیا جلارہی ہوں، یہ ہمارے پلنگ کا سرہانے والاحصہ ہے۔کل ہم پلنگ کی ٹانگیں جلا کر کھانا پکالیں گے۔،اس کے بعد میز، پھر کرسیاں اور پھر گھر کے دروازے جلا کر کام چلالیں گے۔

ہم کسی نہ کسی طورخود کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن تم ہمت نہ ہارنا، اپنے حق سے ہرگز دستبردار نہ ہونا۔جب میں واپس لوٹنے لگاتوبچے ٹولیوں کی صورت میںمیری طرف آئے اور ہاتھ ملاتے رہے۔وہ مجھ سے کہہ رہے تھے:’’ہم بیئر کے بغیر گزارا کرلیں گے لیکن تم یہ بات پکی کروکہ انھیں مزا چکھادو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ بہت بھرے بیٹھے تھے لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ اس صورت حال کا ذمہ دارکون ہے اور اسی طرح کی اطلاعات ہمیں پورے ملک سے موصول ہورہی تھیں۔متوسط طبقے نے ہڑتالوں کے باعث خود کو بہت نقصان پہنچا لیا تھا۔‘‘(ہوگو چاویز کے طارق علی سے یادگار مکالمے سے ایک اقتباس)

جنوبی امریکا دنیا میں تبدیلی کا نشان

چین اور روس جو ہیں وہ امریکا کی قوت محدودکرسکتے ہیں۔امریکاکاسوفٹ پاورپوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔اس کا کلچر، ٹی وی اور فلم ۔یہ سب آسانی سے واپس نہیںہوگا۔تبھی ہوسکتا ہے، جب اس سے بہترچیزیں آپ کریں۔جنوبی امریکا جیسی تبدیلی اور جگہوں پربھی آئے۔ایشیا میں کہیں کچھ نہیں ہوا۔میںجنوبی امریکا بار باراس لیے گیاکہ چلو ادھر کچھ تو ہورہا ہے۔اس اسپرنگ کا اچھا اثر ہوا ہے۔غریبوںکے لیے بہت کچھ کیا۔ٹھیک ہے سب کچھ نہیں ہوا لیکن امریکا اور مغربی ممالک کی دشمنی کے باوجود انھوں نے اپنے عوام کے لیے کرکے دکھایا ہے اور مثال قائم کی ہے۔

عرب ممالک بھی اگر اپنی نظرجنوبی امریکا پر رکھتے تو آگے بڑھ سکتے تھے لیکن ان کی نظرتو امریکا پر ہوتی ہے۔مستقبل میں فوجی اعتبار سے تو امریکا کا توڑ نہیں لیکن سیاسی طور پر جس طرح جنوبی امریکا والوں نے اپنی آزادی حاصل کی ہے تو اس طرح کی چیزیں ہوسکتی ہے۔امریکا فوجی طور پر دنیا کو برباد کرسکتا ہے لیکن اگر عوامی حکومت آجائے توتو امریکا کا اسے ختم کرنا اتنا بھی آسان نہیں۔ہوگو چاویزکی حکومت ختم کرنے کے لیے بہت زور لگایا گیا لیکن ایسا ہونہیں سکا کیوں کہ عوام اس کے ساتھ تھے۔دوسرے یہ ہے کہ خود امریکا کے اندر اس کا سامراجی کرداد ختم کرنے کی تحریک چلے۔

امریکا میں ایسے حقیقت پسند پالٹیکل سائنٹسٹ ہیں جن کا خیال ہے کہ اگر ہم نے خود کو نہ روکا تو ہمارا رویہ ہمیںختم کردے گا۔ امریکی سامراج یورپین سامراج سے اس لیے مختلف ہے کہ یورپین سامراج نے دنیا کو تقسیم کیا تھا۔امریکا کو یہ ضرورت پیش نہیں آئی۔عراق اور افغانستان میں وہ پھنسے ہیں لیکن وہ خود کو براہ راست قبضے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور زیادہ تروہ دنیا میں اس طرح سے حکومت کرنا چاہتے ہیں، جیسے 1950ء سے اب تک پاکستان میں کی ہے، کہ حکومتیں ان کا کام کریں اور انھیں فوج بھیجنے کی ضرورت ہی نہ ہو جب تک ناگزیر نہ ہوجائے۔سعودی عرب میںامریکا کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔

گلف میں بھی ایسا ہے۔مبارک کے دور میں بھی مصر بھی کٹھ پتلی ملک تھا اور اب مرسی کے نیچے بھی میرے خیال میں زیادہ فرق نہیں ہوگاچہ جائیکہ کہ مصر کے عوام اٹھیں اور کہیں کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ختم کرو جس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔جس ملک میں فوج کا زور ہووہ عام طور پر فوج سے بات کرتے ہیںکہ یہ نہ ہونے دینا اور وہ نہ ہونے دینا۔ سیاست دانوں کو وہ زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

یونانی سیاستدان کے منہ سے چاویز کی تعریف سے یورپ کا گھبرانا

سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد لیفٹ نے متبادل پالیسی نہیں بنائی۔اٹلی جہاں دنیا کی سب سے بڑی کیمیونسٹ پارٹی ہوتی تھی، ادھر بھی اب کنزرویٹو پارٹی ہے، جو سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ہے۔سرمایہ داری نظام سخت بحران میں ہے لیکن افسوس اس کے باوجود اس کا متبادل نہیں پیدا ہوسکا۔یہ متبادل تب آئے گا، جب نیچے سے کوئی نئی لہر اٹھے گی۔یونان میں کچھ اٹھی تو سب گھبرا گئے۔یورپی ملکوں نے یونان کا گھیرا کرلیا۔SYRIZAترقی پسند پارٹی تھی، اس کے لیڈر Alexis Tsipras سے پوچھا گیا کہ آپ دنیا میں کس کو پسند کرتے ہیں تو اس نے کہا کہ وینزویلا کے رہنما ہوگو چاویزکو۔

اس سے سارا یورپ گھبرا گیا کہ اگر جنوبی امریکا کی یہ بیماری اور پھیلی تو کیا ہوگا۔فرانس کے صدر اور جرمنی کے چانسلر نے الیکشن میں مداخلت کی اور کہا کہ اگر اس پارٹی کو منتخب کیا گیا تو یونان ختم ہوجائے گا۔ ہم یہ کردیں گے، یورو سے نکال دیں گے۔اس طرح یونان میں تبدیلی کا راستہ روکا گیا۔اس سے یونان کا کچھ فائدہ نہیں ہوا اور ادھر حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں۔یورپ میں معاشی صورت حال غیرمستحکم ہے لیکن یونان کے علاوہ لیفٹ نے کہیں بھی صورت حال سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

طارق علی کا علمی و ادبی سفر

سیاست اور تاریخ سے متعلق کتب

Pakistan: Military Rule or People’s Power (1970)

Can Pakistan Survive? (1982)

The Nehrus and the Gandhis (1985)

1968 and After: Inside the Revolution (1978)

Street Fighting Years: An Autobiography of the Sixties (1987 and 2004)

The Clash of Fundamentalisms (2002)

Bush in Babylon (2003)

Rough Music (2005)

Conversations with Edward Said (2005)

Pirates Of The Caribbean: Axis Of Hope (2006)

The Leopard and the Fox (2006)

A Banker for All Seasons (2007)

The Duel: Pakistan on the Flight Path of American Power (2008)

The Obama Syndrome (2010)

ناول

Shadows of the Pomegranate Tree (1992)

The Book of Saladin (1998)

The Stone Woman (1999)

A Sultan in Palermo (2005)

Night of the Golden Butterfly (2010 )

Redemption (1991)

Fear of Mirrors (1998)

کچھ عرب اسپرنگ، صدام اورقذافی کے بارے میں

عرب اسپرنگ میں دو فیزتھے۔پہلا فیزبالکل آزادانہ اور غیرملکی اثر سے پاک تھا۔سب حیران رہ گئے۔امریکا بھی۔سعودی عرب بھی۔یہ کیسے ہوگیا، کہ مصر میں مبارک اور تیونس میں بن علی ہٹ گئے۔عرب اسپرنگ نوجوانوں نے آمریت سے تنگ آکر شروع کیا۔جمہوریت آنے سے ظاہر ہے، جو پارٹیاں طویل عرصے سے ادھرمنظم تھیں، اور جن نے سابقہ ادوار میں جبر برداشت کیا ، انھوں نے ہی آگے بڑھنا تھا۔مصر میں اخوان آگے بڑھے اور تیونس میں بھی ان کے دوست آگے بڑھے۔لیفٹ اور پروگریسوتو ادھر متبادل کے طور پر موجود ہی نہیں تھے۔جب معاملات آگے بڑھے تب امریکی بڑے زور سے ان علاقوں میں آئے اور سمجھوتے کئے۔

تیونس میں فرانسیسیوں کو استعمال کیا۔مصر کوخود کنٹرول کیا۔الیکشن کے بعد ایک طرف تو حسنی مبارک کے حامی نے ووٹ لیے، دوسری طرف مرسی نے ووٹ حاصل کئے۔اس بارے میں کوئی شک ہی نہیں کہ مرسی کو اقتدار میں آنے کے لیے امریکیوں نے گرین لائٹ دی۔مرسی کے جو ڈپٹی ان کمانڈ ہیں، ان سے امریکا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ ان کے اسٹریٹجک تعلقات گہرے ہوں۔ہم ان کے دوست ہیں اور ہم ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔اس لیے مصر میں سامراج مخالفت کا نام ہے نہ نشان۔شام میں بھی وہی ہوا جو مصر میں ہوا اور نوجوان آگے نکلے۔

بعث پارٹی اور اسد نے مذاکرات نہ کرکے بیوقوفی کی۔پہلے سال سے اپوزیشن کہہ رہی تھی کہ مذاکرات کرو۔قانون ساز اسمبلی بنائو، جو نیا آئین ڈرافٹ کرے۔پارٹیوں کو قانونی حیثیت دو۔اسد اگر یہ باتیں مان لیتا تو بچ جاتا لیکن اب اس کا بچنا مشکل لگتا ہے۔لیبیا میں قذافی کے خلاف چھوٹے چھوٹے جلوس شروع ہوئے تو مغربی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ قذافی کو اقتدارسے نکالنے کا اچھا موقع ہے۔کیوں کہ وہ انھیں چھیڑتا اور تنگ کرتا رہتا تھا۔ دوسری طرف ان کو پیسے بھی دیتا تھا۔ٹونی بلئیر کی حکومت کو لیبیا سے بہت پیسا ملا۔سیف الاسلام قذافی کہتا ہے کہ انھوں نے فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کی الیکشن مہم کو فنڈ کیا۔اس کے باوجود قذافی کو اس لیے ہٹایا کہ وہeccentric سا بندہ تھا ۔ناقابل بھروسہ ۔

غیر ملکی سرمایہ کاری اس نے لیبیا میں نہیں آنے دی اور کہتا تھا کہ تیل پر کنٹرول صرف لیبیا کی حکومت کا ہوگا۔لیبیا میں چھ ماہ نیٹو کے طیاروں نے بمباری کی،اب تک ہمیں نہیں بتایا گیا کہ ادھر کتنا جانی نقصان ہوا۔میرے خیال میں کم ازکم بیس یا تیس ہزار افراد مارے گئے۔قذافی جیسے جو لیڈر تھے، انھوں نے عوام کے لیے زیادہ نہیں کیا۔صدام نے اپنے ملک میں قذافی سے بہت زیادہ کیا۔عراق کا نظام تعلیم بہت اچھا تھا۔اسپتال بہت اچھے تھے۔عورتوں نے بہت ترقی کی۔ٹھیک ہے ، اس میں خامیاںبھی بہت تھیں لیکن کام بھی اس نے کئے، قذافی نے تو یہ بھی نہیں کیا۔اتنا عرصہ وہ اقتدار میں رہا لیکن لیبیا کا قبائلی اسٹرکچروہ نہیں توڑ سکا۔

لیکن جیسا بھی تھا، اسے ہٹاناناجائز تھا، کیوں کہ اس طرح مثال قائم ہوجاتی ہے کہ اگر لیبیا میں ہوسکتا توکہیں اور بھی کیا جاسکتا ہے۔امریکا نے سمجھا تھا کہ شام میں اسد کو آسانی سے ہٹادے گا لیکن روس اور چین نے کہا کہ تم نے لیبیا میں ہمیں دھوکا دیا ، تو شام کے لیے ہم تمھیں اقوام متحدہ کو استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ امریکا اور روس کے درمیان شام پر بات ہورہی ہے اور روسیوں کی پوزیشن ہے کہ اسد کو اب آرام سے نکلنے دینا چاہیے اور مذاکرات کرکے ریاست کو کسی صورت میں طریقے میں رکھا جائے۔لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکا ایسا کرنے دے گا۔اب تو ایسا ہے کہ لوگ باہر نکلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کدھر ہے اور انٹرنیشنل کمیونٹی سے مراد ، امریکا ہے۔وہ تحریک جس کا امریکا پر اس قدر انحصار ہو وہ بھی کیا تحریک ہوگی۔

بلیئر کی کتاب کرائم سیکشن میں ہونی چاہیے

طارق علی سے انٹرویوکرکے ہم لاہور کی معروف بک شاپ ریڈنگز پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ دوگھنٹے بعد ان کا ادھر آنا طے ہے تو ہم نے سوچا چلیں ، یہاں بھی ان سے مل لیتے ہیں۔وہ وقت مقررہ پرآگئے اور اتنی بے تکلفی اور اچھے انداز سے ملے ، جیسے ہم ان کے بہت پرانے جاننے والے ہوں جبکہ ابھی دو گھنٹے قبل ہی تو ان سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ان سے مل کر یہ احساس ہوا کہ ان کی شخصیت تصنع سے پاک ہے۔ دکان میں کتابوں کودیکھتے دیکھتے وہ جب سوانح عمری کے سیکشن میں پہنچے تو ادھر ٹونی بلئیر کی کتاب کو دیکھ کرانھوں نے دکان کے منیجر سے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ یہ کتاب آپ نے ادھر کیوں لگارکھی ہے ؟اس پر انھوں نے حیرانی سے کہا کہ آپ بیتی ہے، اس کی جگہ ادھر ہی بنتی ہے، جس پر طارق علی نے کہا کہ’’ یار! ٹونی بلیئر کی کتاب تو کرائم سیکشن میں لگانی چاہیے۔‘‘

یہاں ان کی کتاب The Duel: Pakistan on the Flight Path of American Power”پرزرداری حکومت کی جانب سے پابندی کا ذکر ہوا تو وہ کہنے لگے ’’ یہ پابندی صرف دو ہفتے رہی اور ایسی پابندیوں کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔ضیاء الحق کے دور میںمیری کتابcan pakistan survive? پرپابندی رہی۔ضیاء الحق سے ہندوستان میں پوچھا گیا کہ آپ نے طارق علی کی کتاب پر پابندی کیوں لگائی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ بڑی خراب کتاب ہے، اور یہ ہے وہ ہے لیکن ضیاء الحق کے کہنے سے کتاب کی فروخت میں اضافہ ہوگیا۔ میری پہلی کتابPakistan: Military Rule or People’s Power ، جس میں ، میں نے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کی پیش گوئی تھی،اس پر بھی پابندی لگادی گئی تھی۔‘‘

پروگریسو پیپرز پر قبضے کی مہم اور بھٹو

پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر قبضہ ہونے سے تین ہفتے قبل بھٹو نے جو اس وقت ایوب خان کابینہ میں وزیر تھے، میرے والد کو بتادیاتھا کہ پروگریسو پیپرزکے بارے میں حکومت سخت اقدامات کامنصوبہ بنا رہی ہے۔میرے والد یہ خبر لے کر میاں افتخارالدین کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ یار ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ کیا کرلیں گے۔یہ تو انھیں خیال ہی نہیں آیا کہ حکومت اخبارات کو قبضے میں لے سکتی ہے۔ایوب خان کو امریکیوں نے پہلا حکم ہی یہ دیا تھا کہ ان اخبارات کو ختم کرنا ضروری ہے ، کہ یہ تمھارے ملک میں روس کا ففتھ کالم ہیں۔امریکی حکم سے اخبار بند ہوئے، اور ’’ڈان‘‘ سے لے کر ’’نوائے وقت‘‘ تک سب نے اس فیصلے کو سراہا اور کہا کہ یہ پابندی پاکستانی صحافت کے لیے بڑی اچھی چیز ہے۔میاں افتخار الدین 1962ء میں فوت ہوگئے۔وہ اگر زندہ رہتے تو ممکن ہے پیپلزپارٹی میں شامل ہوجاتے، اور بھٹو سے پروگریسیو پیپرز لمیٹڈ واپس لینے کی کوشش کرتے۔

اب بھٹو واپس کرتا یا نہیں ، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان ٹائمز پر قبضے کے بارے میں بھٹومیرے والد کو گھر اطلاع دینے آئے تھے۔مجھے یاد ہے،اپریل 1959 کی ایک صبح جب میں اسکول جارہا تھا توجھنڈے والی لیموزین گاڑی ہمارے گھر میں داخل ہوئی، اور اس میں سے حکومتی وزیر نکلے اور میرے والد کے کمرے میں چلے گئے، یہ بھٹو تھے، اسکول سے واپسی پر میری والدہ نے بتایا کہ وہ میرے والد کو پاکستان ٹائمز پر قبضے کے بارے میں بتانے آئے تھے۔بھٹو نے میرے والد پر زور دیا تھا کہ وہ بدستور چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہیں،لیکن انھیں یہ کسی صورت گوارا نہیں تھا، اس لیے انھوں نے استعفا دے دیا۔بھٹو کے ساتھ جودوسرے وزیراخبارات پر قبضے کے معاملے کو دیکھ رہے تھے، وہ جنرل کے ایم شیخ تھے۔

٭ والد سے سیاسی اختلاف بہت سے تھے لیکن وہ اس کا برا نہیں مناتے تھے۔وہ سوویت یونین کے حمایتی تھے،اور میں تو کبھی نہیں تھا۔سوویت یونین ان کے سامنے ٹوٹا۔ ہمارے جیسے لوگ کہتے تھے کہ یہ نظامviable نہیں ہے، اس لیے کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔لیکن کس میکانزم کے ذریعے ہوگا یہ نہیں پتا تھا۔ اس معاملے میںان سے بہت بحث ہوتی ۔میں نے زندگی میں وہی کیا ، جو میں چاہتا تھا۔ میں جو کچھ کررہا تھا، اس سے میرے والدین بہت خوش تھے۔تعلقات بہت اچھے تھے ۔بچپن میں ان کے ساتھ پاکستان ٹائمز چلا جاتا تھا اور ادھر نظام دین جو ریفرنس سیکشن میں تھے ، وہ مجھے بھی پڑھنے کے لیے پروف لادیتے۔چھوٹا بھائی ماہرعلی چار سال کا تھا، جب میں باہر چلا گیا اس لیے وہ میرے ساتھ بڑا نہیں ہوا۔ بہن توصیف کے ساتھ بہت دوستی رہی۔

سامراج مخالف‘ ادب کے نوبیل انعام سے محروم

عالمی ادب پر گہری نظر رکھنے والے طارق علی کے پسندیدہ ادیبوں کی طویل فہرست ہے، جس میں انڈونیشیا کے پرمودیہ آنند طور کا درجہ بہت اونچا ہے۔ان کا ذکر وہ اکثر کرتے ہیں،انھوں نے اپنی کتاب ’’بنیاد پرستیوں کا تصادم ‘‘میں اس مایہ نازادیب کو‘جس کا عرصۂ حیات سہارتو نے تنگ کررکھا تھا،شاندار لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا ۔طویل عرصہ جیل میںگزارنے والے اس لکھاری کا کتب خانہ سہارتوکے آدمیوں نے نذرِ آتش کردیا تھا۔طارق علی کے بقول، پرمودیہ آنند طور ادب کے نوبیل انعام کا حق دار تھا لیکن اس انعام کو دینے والی کمیٹی کے اپنے معیارات اور ترجیحات تھیں، جس کے باعث وہ انعام سے محروم رہا۔

کرکٹ کا شوق

لیون ٹراٹسکی spectator gamesکو پسند نہیں کرتے تھے، ان کا خیال تھا کہ یہ حکمران طبقے کی طرف سے ورکرز کو الجھائے رکھنے کی سازش ہے ، ٹراٹسکی کے اس کہے کو ممکن ہے بہت سے لوگوں نے مانا لیا ہو لیکن ان کے دو بہت ہی معروف ماننے والوں نے اس بات پر کا ن نہیں دھرے، ان میں ایک تو ممتازمارکسٹ دانشور سی- ایل- آر جیمز ہیں، جنھوں نے کرکٹ پر”Beyond a Boundary” کے نام سے لازوال کتاب لکھی ، دوسرے طارق علی ہیں، جن کو بچپن سے کرکٹ میں دلچسپی ہے‘ جو اب بھی برقرار ہے۔ ان کی ایک کتاب سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے انتظار کے سلسلے میں‘ ان کی بیتابی کا پتا چلتا ہے۔طارق علی نے بتایا کہ ان کا سی ایل آر جیمز سے تعلق رہا اور انھیں کرکٹ سے اب بھی بہت زیادہ لگائو ہے۔

(1) تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2013 ایکسپریسس اردو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.