خواب گر عذرا عباس Dream maker Azra Abbas

جب تمھاری سواری گزرتی ہے
تم سب ملیا میٹ کرتے چلے جاتے ہو
وقت کا زیاں،لوگوں کے آنسوؤں کا زیاں
دن کا زیاں ،رات کا ہاں رات کا زیاں
ہاں ہاں وقت کو نچوڑو تو بچتا کیا ہے
مسافر ادھ موا ہوجاتا ہے
اور وہ جو انتظار کی قطار میں کھڑے ہوتے ہیں
مردہ خانے جانے والے
مُردے
ہسپتال جانے والے زندے
سب ایک حُلیے میں کھڑے ہوتے ہیں
اور حُلیہ کیا
جانو
پرانے زمانے کی کہانیوں کے غلام
جن کو بدصورت دیو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا
مٹھی ؟ہاں ہاں مٹھی اس کا قید خانہ
کیا تم بادشاہ ہو
یا تم وہ بدصورت دیو ہو
کیوں ایسا کرتے ہو
کیا تم کو ہمیشہ وہاں رہنا ہے
جہاں تم رہتے ہو
زمین تو ان کی بھی ہے
زمین تو ہماری بھی ہے
زمین تو میری بھی ہے
تم اپنی بدصورتی سے آزاد ہو جاؤ
ورنہ
ورنہ ؟
ارے خواب تو دیکھنے دو
ہم اپنے خوابوں میں تو ان کو تہس نہس کر سکتے ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.