Independence Day by Ahmed Ilias

شمیم زمانوی صاحب ان دنوں خوب ثلاثی لکھ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ان کے علاوہ کسی کو اس فن میں دسترس حاصل نہیں ہے۔ مجھے تو ایسا ہی نظر آتا ہے۔ ان کے تازہ ثلاثی میں جنازے کا ذکر ہے۔ بس یہی پڑھ کر مجھے اپنی وہ پہلی نظم یاد آگئی جو میں نے ۱۹۷۱ میں کہی تھی۔ اوراس کا عنوان ’’ جنازے‘‘ رکھا تھا۔ آج پاکستاں کے یومِ آزدی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نظم کو پڑھیں۔ اگر پسند آئے تو دعائوں میں یاد رکھیں۔

جنازے

احمد الیاس

کل تھی یہ خواہش کہ ہم کو بھی کوئی آوازدے
ہم بھی ہوجائیں کسی دل میں مکیں
ہم بھی کہلائیں کبھی دیوانہِٗ محمل نشیں
ہم بھی تپتے ریگ زاروں میں پھریں
ہم بھی سنگ و خشت و آہن میں گھریں

آج اپنی آرزوئوں کے جنازے کواُٹھائے
گھرکی تنہائی میں اہنے آپ سے بھی منہہ چھپائے
سوچتے ہیں عمر کتنی کٹ گئی
زیست کن کن حسرتوں میں بٹ گئی

(فیس بک سے)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s