Ahmed Ilias 

احمد الیاس

کب سے تضادِ فکر و نظر کے اثر میں ہوں
آئینے میں کبھی، کبھی آئینہ گر میں ہوں

صدیوں سے چل رہا ہوں مگر یہ خبر نہیں
یہ راستہ سفر میں ہے یا میں سفر میں ہوں

جاری ہیں آج بھی وہ بچھڑنے کے سلسلے
اک عمر سے کسی نہ کسی چشمِ تر میں ہوں

یادوں کے سارے نقش و نگاراں سمیٹ کر
یوں مطمئن ہوں جیسے صفِ معتبر میں ہوں

تزئینِ زلف و عارضِ جاناں کے واسطے
مدّت سے میں بھی گردشِ شام و سحر میں ہوں

لکھّے کوئی تو میری بھی تاریخِ گُمرہی
میں حرف حرف بکھرا ہوا رہ گزر میں ہوں

الیاسؔ حال یہ ہے کہ اب پوچھتا ہوں روز
یہ اپنا گھر ہے یا میں کسی اور گھر میں ہوں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s