Hat in York and childhood

ٹوپ 

نوجوان نوید عالم نے گاڑی ، یارک  ریل اسٹیشن کے بازو میں ایک واماندہ جگہ میں پارک کی، اور ہمیں ہانک کر ساتھ والی ایک خوشحال سڑک پر   لے گیا۔ بلِسم اسٹریٹ اسٹیشن کو رومیوں کے زمانے کے شہر کے اسکوئر سےملاتی ہے۔ چلتے چلتے میری نظر ایک دکان کی نمائشی کھڑکی پر پڑی۔ میں اپنے بچپن میں چلا گیا۔ کھڑکی میں سولا ہیٹ پڑا تھا۔ جی ہاں، سولا ہیٹ ، جو راج کے زمانے میں بے شمار لڑکوں کی طرح میں بھی پہنا کرتا تھا۔  

سولا، آکسفرڈ ڈکشنری کے مطابق، مشرقی ہندوستان کے ایک پودے کا گودا ہے، اور وکی پیڈیا کے مطابق، سولا ہیٹ کے کئی مترادف ہیں۔ چلئے آپ خود ہی پڑھ لیجئے:  

 The pith helmet (also known as the safari helmet, sun helmet, topee, sola topee, salacot or topi[a]) is a lightweight cloth-covered helmet made of pith material. 

سولا ہیٹ سفید فام نو آبادیاتی اشرافیہ کے لباس کا حصہ تھا، چنانچہ بھابھا کے کہنے کے مطابق،نقالی میں میری پوشاک کا حصہ بھی بن گیا۔  

بہر حال، نمائشی کھڑکی کے سامنے میرے قدم جم گئے، اور عالم کے سامنے ٹوپ کے بارے میں قصیدہ پڑھنے لگا۔ وہ گھسِٹ کر دکان کے اندر لے گیا۔ چار و ناچار میں نے دکان کی مالکن کے سامنے اپنے بچپن کی محبت کی پوتھی کھول دی۔ لوسنڈا کی آنکھوں میں چمک آگئی، اور کہنے لگی کہ اس کے دادا جان ہندوستان کی فوج میں افسر تھے اور پشاور میں رہے تھے۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میرا بچپن پشاور میں گزرا تھا، اور میری رگوں میں بھی برطانوی فوج اور راج کے ساتھ وفا داری دوڑ رہی ہے، تو اس نے کہے بغیر مجھے اپنی محبتوں میں جکڑ لیا۔ آپ کو باقی کہانی تصویروں میں مل جائے گی۔  

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s